کوئٹہ(بلوچستان نیوز) وندر کے قریب ٹریفک حادثہ، 13 سالہ بچی جاں بحق، 4 افراد زخمی ہوگئے، ریسکیو ذرائع۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مرک ریسکیو سینٹر 1122 وندر کی ایمرجنسی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کراچی میں قومی شاہراہ N-25 وندر پولیس اسٹیشن کی حدود میں مراد ہوٹل کے مقام پر کراچی سے وندر آنے والی فیملی سوزوکی کے سامنے اچانک ایک جانور آ گیا جسے بچانے کی کوشش میں ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور سوزوکی مخالف سمت کوئٹہ سے کراچی جانے والے مزدہ ٹرک سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے مین سوزوکی میں سوار بچی جاں بحق جبکہ دیگر زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور کو مرک ریسکیو سینٹر 1122 وندر کی ایمبولینس کے ذریعے رسپانس سینٹر منتقل کیا گیا جہاں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مزید علاج و معالجہ کے لیے ٹراما سینٹر کراچی ریفر کر دیا گیا۔ جاں بحق بچی کی عمر 12 سے 13 سال بتائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ مین قومی شاہراہ این-25 پر آوارہ جانوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈرائیور حضرات کا کہنا ہے کہ پیر مجاہد سے لے کر ناکہ کھارڑی اور بریدہ کیمپ تک کے ایریاز میں قومی شاہراہ پر گدھوں اور دیگر آوارہ جانوروں کی بھرمار کے باعث آئے روز ٹریفک حادثات رونما ہو رہے ہیں دن ہو یا رات اچانک سڑک پر جانور آ جانے سے ڈرائیوروں کو گاڑیوں پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور مالی نقصان معمول بنتا جا رہا ہے۔ ڈرائیوروں نے ضلعی انتظامیہ ، این ایچ اے حکام اور دیگر ذمہ داران سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی شاہراہ پر آوارہ جانوروں کے مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے۔ علاوہ ازیں بوستان کے علاقے میں 2 موٹر سائیکلوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ٹرالر کی زد میں آکر نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ گزشتہ روز بوستان کے قریب 2 تیز رفتار موٹر سائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں اور ایک موٹر سائیکل سوار قریب سے گزرنے والے ٹرالر کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا لاش اسپتال میں ضروری کارروائی کے بعد ورثاءکے حوالے کردی گئی، مزید کارروائی مقامی انتظامیہ کررہی ہے۔ دریں اثناءخضدار کے تحصیل کَرخ کی بھلونک ندی میں ڈوبنے والے نوجوان کی لاش مقامی پولیس اہلکاروں نے کئی گھنٹوں پر محیط ریسکیو آپریشن کے بعد نکال لی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز نوجوان ندی میں نہاتے ہوئے پانی کے زد میں آکر ڈوب گیا تھا جس کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور اہل علاقہ موقع پر پہنچ گئے، پولیس اہلکاروں نے محدود وسائل کے باوجود مسلسل کئی گھنٹوں تک تلاش کا عمل جاری رکھا اور بالآخر نوجوان کی لاش ندی سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے، لاش کو ضروری کارروائی کے لیے قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد میت ورثاءکے حوالے کردی گئی۔ مقامی شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ندیوں اور آبی مقامات پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ ایک اور واقعے میں نصیرآباد میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک کردیا۔ پولیس کے مطابق اتوار کو نصیرآبادکے علاقے دولت گھاڑی گوٹھ غلام مصطفی مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص حاکم علی ولد عبدالستار کو ہلاک کردیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔ پولیس نے لاش قبضے میں لیکر اسپتال پہنچاکر ضروری کارروائی کے بعد ورثاءکے حوالے، مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی۔ پنجگور کے علاقے تسپ اور خدابادان کے درمیان پسکول برساتی ندی سے ایک شخص کی لاش برآمد، جس کو گولیاں مارکر کرقتل کیا گیا، پولیس کے مطابق لاش کی شناخت نعیم ولد محمد سلیم سکنہ سراوان کے نام سے ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔
بلوچستان، حادثات و واقعات میں 5 افراد جاں بحق، 4 زخمی ہوگئے
