نئے صوبے حقیقت اور چیلنجز

سہیل بشیر منج

ڈیرے دار
سہیل بشیر منج
پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام دائمی انتظامی ضرورت ہے یا صرف وقتی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، یہ سوال طویل عرصے سے ملکی سیاست کے افق پر گردش کر رہا ہے اگر حقائق اور عوامی مسائل کی عینک سے دیکھا جائے تو کروڑوں کی آبادی کو چند مراکز سے چلانا انتظامی بدحکومتی، فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کا باعث بنتا ہے سرائیکی وسیب، ہزارہ، اور سندھ کے دور دراز علاقوں کے رہائشی آج بھی اپنے معمولی انتظامی و عدالتی کاموں کے لیے سو سال پرانے مرکزیت پسند نظام کے ہاتھوں خوار ہو رہے ہیںاس تناظر میں نئے صوبے وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں تاکہ اختیارات اور فنڈز نچلی سطح پر منتقل ہوں اور دہلیز پر انصاف و ترقی ممکن ہوسکےدوسری طرف المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی تمام اہم سیاسی جماعتیں اس حساس اور بنیادی مسئلے کو صرف انتخابات کے قریب ووٹ بینک حاصل کرنے سیاسی بلیک میلنگ اور جذباتی نعرے بازی کے لیے استعمال کرتی آئی ہیں جبکہ اقتدار میں آتے ہی یہ ترجیح فراموش کر دی جاتی ہے عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ہمسایہ ملک بھارت اس کی ایک روشن اور کامیاب مثال ہے  جہاں انتظامی ضرورت کے تحت اتر پردیش جیسے وشال صوبے سے اتراکھنڈ، اور مدھیہ پردیش سے چھتیس گڑھ جیسے نئے چھوٹے صوبے تشکیل دیے گئے چھوٹے صوبوں کے قیام سے وہاں نہ صرف حکومتی کنٹرول مضبوط ہوا انتظامی کارکردگی اور بجٹ کی تقسیم میں شفافیت آئی بلکہ مقامی سطح پر تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے سے عوام کے حالات زندگی میں نمایاں اور پائیدار بہتری رونما ہوئی اگر پاکستان میں بھی نئے صوبوں کی تشکیل کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور وقتی انتخابی مفادات کے گھناو¿نے کھیل سے آزاد کر کے خالصتاً عوامی فلاح اور شفاف انتظامی بنیادوں پر استوار کیا جائے تو یہ قدم ملک کے معاشی استحکام سماجی انصاف اور پائیدار قومی ترقی کا سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
نئے صوبوں کی تشکیل محض ایک دلکش جذباتی نعرہ نہیں بلکہ سخت آئینی الجھا ہوا اور پیچیدہ معاشی حقیقتوں سے جڑا ایک سنگین مرحلہ ہے آئینی طور پر دو تہائی اکثریت کی شرط اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری ایک ایسا پہاڑ ہے جسے عبور کرنا سیاسی عدم استحکام اور باہمی کھینچ تان کے ماحول میں تقریباً ناممکن نظر آتا ہے مرکزیت پسند سیاسی مفادات ہمیشہ ایسے فیصلوں کی راہ میں دیوار بنتے ہیں کیونکہ کوئی بھی صوبائی قیادت اپنے اختیار اور وسائل کے دائرے کو محدود نہیں کرنا چاہتی اس سیاسی بند گلی سے نکلنے کے لیے قومی یکجہتی، وسیع تر سیاسی میثاق اور تمام فریقین کے مابین تدبر و رواداری پر مبنی مفاہمت کی شدید ضرورت ہے دوسری جانب نئے صوبے کا قیام اپنے ساتھ اربوں روپے کے نئے انتظامی اخراجات، بیوروکریسی کے پھیلاﺅ اور نیا انفراسٹرکچر قائم کرنے کا بھاری معاشی بوجھ لاتا ہے پہلے سے مقروض اور نازک معیشت کے حامل ملک کے لیے یہ اخراجات شروع میں انتہائی گراں محسوس ہوتے ہیں لیکن حقیقت پسندی یہ بتاتی ہے کہ یہ عارضی بوجھ طویل المدتی معاشی فوائد کا ذریعہ بن سکتا ہے نئے دفاتر اور شاہانہ محلات کی تعمیر کے بجائے اگر موجودہ انفراسٹرکچر، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل گورننس کو اپنایا جائے تو اخراجات میں نمایاں کمی ممکن ہے وسائل کی منصفانہ تقسیم، مقامی سطح پر ٹیکس کے نظام کی بہتری اور انتظامی سست روی کا خاتمہ بالآخر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے جس سے پیدا ہونے والا نیا ریونیو انتظامی اخراجات کو باآسانی پورا کر سکتا ہے
جدید ریاستوں کی بقا اور استحکام کا راز لسانی جذبات کے بجائے جغرافیائی حقیقت پسندی اور آبادی کے متوازن تناسب پر مبنی انتظامی حکمتِ عملی میں پنہاں ہوتا ہے جب بھی انتظامی اکائیوں کی بنیاد زبان، قومیت یا مخصوص نسلی شناخت پر رکھی جاتی ہے تو وہ وحدت کے بجائے تفریق، تعصب اور باہمی نفرت کا سبب بنتی ہے زبان انسانوں کو جوڑنے اور رابطہ قائم کرنے کا ذریعہ ہے لیکن جب اسے سیاسی یا جغرافیائی سرحدوں کی علامت بنا دیا جائے تو یہ لسانی عصبیت کے زہر کو جنم دیتی ہے جو ریاست کے اجتماعی وجود کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے اس کے برعکس اگر نئے صوبوں کی تشکیل کو خالصتاً جغرافیائی سہولت، آبادی کی کثافت اور یکساں معاشی و انتظامی ترقی سے مشروط کیا جائے تو یہ عمل قومی یگانگت کا ضامن بنتا ہے جغرافیائی اور آبادی کے تناسب سے بننے والی جدید انتظامی اکائیاں کسی ایک قومیت کے غلبے کا باعث نہیں بنتی بلکہ مختلف لسانی اور ثقافتی گروہوں کو ایک ہی چھت تلے مساوی مواقع فراہم کرتی ہیںیوں صوبائیت کی تنگ نظری کا خاتمہ ہوتا ہے اور تمام شہری اپنے علاقے کی ترقی میں برابر کے حصہ دار بنتے ہیں جہاں تک ملکی سلامتی کا تعلق ہے ایک مضبوط باصلاحیت اور فعال انتظامی ڈھانچہ عوام کی محرومیوں اور احساس کمتری کو ختم کرتا ہے جو دراصل ملک دشمن عناصر کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتی ہیں جب عوام کو ان کے گھر کے قریب بہترین سہولیات، فوری انصاف اور معاشی خودکفالت حاصل ہوتی ہے تو مرکزی حکومت پر ان کا اعتماد بحال ہوتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لسانی بنیادوں پر ابھرنے والے تحرکات خود بخود دم توڑ جاتے ہیں اور جغرافیائی بنیادوں پر قائم نئی اکائیاں ملکی سلامتی، دفاع اور استحکام کو پہلے سے کہیں زیادہ معتبر اور ناقابلِ تسخیر بنا دیتی ہیں۔
پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کا غوغا دراصل ان بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک سعیِ لاحاصل ہے جو دہائیوں سے عوام کا مقدر بنا دیے گئے ہیں سوال یہ نہیں کہ نئے جغرافیائی نقشے کھینچ کر سیاسی مفادات کی تسکین کا ساماں کیسے فراہم کیا جائے بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا مفلوک الحال قوم پر نئے صوبوں کی صورت میں شاہانہ گورنر ہاو¿سز اور وزرائے اعلیٰ کے محلات کا مزید بوجھ تھپنا دانشمندی ہے  یا پھر آئین کے تحت ایک بااختیار بلدیاتی نظام تشکیل دے کر اختیارات اور وسائل کو عوام کی دہلیز تک منتقل کرنا وقت کی حقیقی ضرورت ہے
جب تک فیصلے ایوانوں کی اونچی فصیلوں اور اشرافیہ کی بیٹھکوں سے نکل کر عام آدمی کی چوکھٹ تک نہیں پہنچیں گے، نئے انتظامی جغرافیے محض نئی اشرافیہ کی پیداوار اور قومی خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوں گے جمہوریت کا حسن اور اس کا حقیقی ثمر نئے شاہی محلات کی تعمیر میں نہیں بلکہ گراس روٹ لیول پر ایک ایسے خود مختار بلدیاتی نظام میں پوشیدہ ہے جو نچلی سطح پر عوام کی بات سنے اور ان کے مسائل کا مداوا کرے
اگر نیتیں صاف ہوں تو وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے یہی بلدیاتی طریقہ کار وہ واحد کلید ہے جو ملک کو لسانی و علاقائی تعصب اور اندھی وابستگی سے بچا کر ایک مضبوط قوم بنا سکتا ہے اب فیصلہ اربابِ اختیار کو کرنا ہے کہ وہ نوکر شاہی کے اخراجات کا نیا بارِ گراں اس قوم پر ڈالنا چاہتے ہیںیا آئین کی اصل روح کو بحال کرتے ہوئے طاقت اور وسائل کی منتقلی کو ممکن بناتے ہیں تاریخ کبھی ان فیصلوں کو معاف نہیں کرتی جو عوام کی جگہ اشرافیہ کے مفاد میں کیے جائیں۔