بلوچستان ہائیکورٹ نے سرکاری گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا

بلوچستان ہائیکورٹ

ماخذ: آئی این پی

کوئٹہ (آئی این پی) بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبے میں سرکاری گندم کے ذخیرے، گوداموں کی تحویل، گندم کی خریداری و تقسیم اور مبینہ طور پر سرکاری گودام ڈی سیل کرکے گندم کا اسٹاک قبضے میں لینے کے معاملے پر سیکرٹری محکمہ خوراک اور ڈائریکٹر جنرل محکمہ خوراک کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے اور مختلف امور پر جامع، مصدقہ رپورٹس جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔جسٹس اقبال احمد کاسی اور جسٹس میاں محمد رو¿ف عطا پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست کی سماعت کے دوران محکمہ خوراک کے ڈائریکٹر محمد رحیم بنگلزئی کے بیان اور پیش کردہ وضاحت کا جائزہ لیا، جسے عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دیا۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل راہب خان بلیدی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل چنگیز دشتی اور ڈائریکٹر محکمہ خوراک محمد رحیم بنگلزئی عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈائریکٹر محکمہ خوراک نے مو¿قف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے مبینہ طور پر سرکاری گندم کے گودام کو غیر مجاز طور پر ڈی سیل کرکے مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر وہاں موجود گندم کا پورا ذخیرہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔عدالت کے استفسار پر کہ آیا اس معاملے میں درخواست گزار کے خلاف کوئی قانونی کارروائی شروع کی گئی یا ایف آئی آر درج کرائی گئی، ڈائریکٹر محکمہ خوراک نے بتایا کہ اعلیٰ حکام کو بعض درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں، تاہم کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ سرکاری گندم کے ذخائر کی تحویل، حفاظت، انتظام، فروخت اور تقسیم سے متعلق اہم قانونی و انتظامی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان میں گندم کی مبینہ قلت اور عوام کو درپیش مشکلات کے تناظر میں اس بنیادی غذائی جنس کے سرکاری ذخیرے کو محفوظ بنانا اور قابل اطلاق قوانین و قواعد کے مطابق اس کی منصفانہ اور شفاف تقسیم یقینی بنانا ضروری ہے۔ سرکاری ذخائر تک غیر مجاز رسائی یا انہیں ہٹانے کے الزامات کی صورت میں قانون کے مطابق مناسب کارروائی بھی ناگزیر ہے۔عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں سرکاری گندم کے مجموعی ذخیرے، گوداموں کے انتظامی و حفاظتی نظام، خریداری سے لے کر فروخت اور تقسیم تک کے طریقہ کار اور اس ضمن میں نافذ قانونی فریم ورک کے بارے میں تفصیلی وضاحت پیش کریں۔حکم نامے کے مطابق سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل محکمہ خوراک کو الگ الگ، جامع اور مصدقہ رپورٹس جمع کرانا ہوں گی، جن میں صوبے بھر کے سرکاری گوداموں میں موجود گندم کی مجموعی مقدار، ہر گودام میں دستیاب ذخیرے، اس کے محل وقوع اور اسٹاک کی تصدیق کی تاریخ کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ سرکاری گوداموں کی مکمل فہرست اور ان کی تحویل، نگرانی، انتظام اور حفاظت کے ذمہ دار افسران کے نام و عہدے بھی فراہم کرنا ہوں گے۔عدالت نے گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، حفاظت، فروخت اور تقسیم کے مقررہ طریقہ کار، متعلقہ حکام کے اختیارات، قیمتوں کے تعین کے معیار، اہل خریداروں اور مستحقین کی اقسام اور فروخت و تقسیم کے لیے اجازت نامے جاری کرنے کے نظام کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ اسی طرح گوداموں کو کھولنے، سیل کرنے یا ڈی سیل کرنے اور گندم کے ذخیرے کو منتقل کرنے یا نکالنے سے متعلق قوانین، قواعد، ضوابط، نوٹیفکیشنز اور محکمانہ پالیسیوں کی نقول پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔درخواست گزار کی جانب سے گودام کو مبینہ طور پر ڈی سیل کرنے اور گندم کا ذخیرہ قبضے میں لینے کے معاملے پر محکمہ خوراک کو حقائق پر مبنی رپورٹ کے ساتھ معائنہ رپورٹس، اسٹاک رجسٹرز، سرکاری خط و کتابت اور دیگر متعلقہ ریکارڈ بھی پیش کرنا ہوگا۔ محکمہ سے یہ وضاحت بھی طلب کی گئی ہے کہ واقعے کا علم ہونے کے بعد کیا اقدامات کیے گئے، آیا کوئی انکوائری ہوئی، اعلیٰ حکام کو دی گئی درخواستوں پر کیا پیش رفت ہوئی اور ایف آئی آر درج نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔ عدالت نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ معاملہ پولیس یا کسی دوسرے مجاز فورم کو قانونی کارروائی کے لیے بھجوایا گیا یا نہیں۔حکم نامے میں زیرِ بحث گندم کے موجودہ ذخیرے کی مقدار، اس کی ملکیت یا قانونی تحویل اور اس امر کی وضاحت بھی طلب کی گئی ہے کہ آیا گندم کا کوئی حصہ فروخت، منتقل یا تقسیم کیا گیا ہے۔ محکمہ خوراک کو ذخیرے کے تحفظ اور سرکاری گندم کے شفاف، جوابدہ اور قانونی استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ اس آرڈر کی نقل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کو ارسال کی جائے تاکہ متعلقہ حکام تک تعمیل کے لیے پہنچائی جا سکے۔کیس کی مزید سماعت 12 نومبر 2026ءتک ملتوی کر دی گئی۔