اشاعتی ڈیسک: روزنامہ بلوچستان نیوز ویب ڈیسک
کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں کا ہیلتھ کیئر سسٹم رات دن پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹرز (PGRs) کے مرہونِ منت ہے اور وہی ان اسپتالوں کی ریڑھ کی ہڈی بن کر عوام کی خدمت کر رہے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ پچھلے چار مہینوں سے ان ٹرینی ڈاکٹرز کو تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ ایک طرف تو وزیراعلیٰ بلوچستان نے پی جیز کی پے ریگولرائزیشن کا جو وعدہ کیا تھا، محکمہ صحت نے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے اور اب تک پے ریگولرائز نہیں ہوسکی۔ دوسری طرف، چار ماہ ڈاکٹرز کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے پی جی ایم آئی نے تنخواہوں میں کٹوتی کا ظالمانہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ہم یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ پچھلے تین چار ماہ کے دوران ہم بارہا پی جی ایم آئی اور محکمہ صحت کو تحریری درخواستیں اور شواہد جمع کرا چکے ہیں کہ ان کی موبائل اٹینڈنس ایپ تکنیکی طور پر ناکام ہے۔ اس بات کا باضابطہ اعتراف خود ایپ بنانے والی سافٹ ویئر کمپنی، پی جی ایم آئی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام بھی کرچکے ہیں کہ ایپ کے اندر شدید فالٹس موجود ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر اٹینڈنس مارک نہیں ہوتی۔ جب انتظامیہ اور ڈویلپرز خود تسلیم کر رہے ہیں کہ غلطی ایپ کے سسٹم میں ہے، تو پھر اس ناکام ایپ کی سزا پی جیز کو کیوں دی جا رہی ہے؟ ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرنے کا کیا جواز بنتا ہے؟ یہ صریحاً دادا گیری، بلیک میلنگ اور اپنے ہی ناکام سسٹم کا ملبہ ڈاکٹرز پر ڈالنے کی مذموم کوشش ہے۔ ہم محکمہ صحت کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کرتے ہیں کہ: اگر اگلے ایک ہفتے کے اندر پی جیز کی پچھلی چار ماہ کی تنخواہوں کا مسئلہ فوری حل نہ کیا گیا، پے ریگولرائزیشن پر پیش رفت نہ ہوئی اور کٹوتی کا یہ ظالمانہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا، تو ہم شدید ترین اور سخت سے سخت ری ایکشن کی طرف جائیں گے۔ اس کے بعد اسپتالوں میں پیدا ہونے والے کسی بھی بحران، احتجاج یا بائیکاٹ کی تمام تر اخلاقی و قانونی ذمہ داری محکمہ صحت کے ہٹ دھرم حکام پر عائد ہوگی۔
