تہران میں علی خامنہ ای اور اہلخانہ کے جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت، چاہتے تو شریک تمام افراد کو نشانہ بنا سکتے تھے، امریکی صدر ٹرمپ

تہران، واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) تہران میں ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای، ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد عادل اور کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق تہران میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ امریکا اور اسرائیل نے رواں سال کے آغاز میں حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا تھا۔ تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز امام خمینی مصلیٰ میں نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔ ارنا کے مطابق نماز جنازہ تین مراحل میں ادا کی گئیں۔ پہلے مرحلے میں سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کی نماز جنازہ اد کی گئی۔ تیسرے مرحلے میں علی خامنہ ای کی کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ بی بی سی فارسی کے مطابق نماز جنازہ کے بعد تقریب کے منتظمین نے علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے اور انتقام کے نعرے لگوائے۔ علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں عوام کی بڑی تعداد پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو خامنہ ای کیلئے روتا دیکھ کر حیران ہوں، سمجھتا تھا ایرانی ان سے نفرت کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی عوام کی جانب سے آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے جذباتی اظہار دیکھ کر حیران رہ گئے۔ امریکی صدر نے کہا اگر چاہتے تو خامنہ ای کے جنازے میں موجود تمام افراد کو نشانہ بنا سکتے تھے لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ اس صورت میں مذاکرات کے لیے کوئی فریق باقی نہیں رہے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا نے باہمی اتفاق سے مذاکرات میں عارضی وقفہ کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔