بسم اللہ خان لونی6 سال بعد بھی یادوں میں زندہ ایک مخلص سیاسی، قبائلی اور سماجی رہنما

بسم اللہ خان لونی

بسم اللہ خان لونی
6 سال بعد بھی یادوں میں زندہ ایک مخلص سیاسی، قبائلی اور سماجی رہنما
عین جوانی میں اچانک جدائی، عوامی خدمت کا جذبہ، محکوم اقوام کے حقوق کی جدوجہد اور ایک ایسی شخصیت کی یادیں جو آج بھی دلوں میں زندہ ہیں
تحریر: میاں محمد طاہر بشیر آرائیں سینئر صحافی لورالائی
زندگی کی حقیقت بھی کتنی عجیب ہے کہ بعض لوگ مختصر وقت کے لیے ہمارے درمیان رہتے ہیں، مگر اپنی شخصیت، کردار، خلوص، جدوجہد اور عوامی خدمات کے ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو برسوں گزرنے کے باوجود مٹ نہیں پاتے۔ وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہتا ہے، موسم بدلتے ہیں، حالات تبدیل ہوتے ہیں اور نسلیں آگے بڑھتی ہیں، لیکن کچھ شخصیات کی یادیں دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ان کی جدائی کا غم وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہو جاتا ہے، کیونکہ ان کے ساتھ وابستہ یادیں، ان کی باتیں اور ان کی خدمات بار بار ذہن کے دریچوں پر دستک دیتی رہتی ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر، ممتاز قبائلی اور سماجی رہنما بسم اللہ خان لونی بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے تھے جن کی اچانک جدائی نے ان کے خاندان، عزیز و اقارب، دوست احباب، سیاسی رفقا اور علاقے کے عوام کو گہرے دکھ سے دوچار کیا۔ آج انہیں ہم سے بچھڑے چھ سال بیت چکے ہیں۔ چھ برس کا یہ طویل عرصہ اپنی جگہ، مگر ان کی جدائی کا احساس آج بھی ان لوگوں کے دلوں میں موجود ہے جنہوں نے انہیں قریب سے دیکھا، ان کے ساتھ وقت گزارا اور ان کی سیاسی و سماجی جدوجہد کا مشاہدہ کیا۔بسم اللہ خان لونی عین جوانی میں اچانک اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی زندگی کا سفر جس وقت اپنے عزم، تجربے اور عملی جدوجہد کے مراحل طے کر رہا تھا، اسی دوران موت نے انہیں ہم سے جدا کر دیا۔ ان کی وفات ایک ایسا سانحہ تھا جس نے ان کے چاہنے والوں کو غمگین کر دیا۔ کسی بھی انسان کی زندگی میں اس کے جانے کا دکھ اپنی جگہ، لیکن جب کوئی شخص عوامی زندگی سے وابستہ ہو، لوگوں کے مسائل سے آگاہ ہو اور اپنے علاقے کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتا ہو تو اس کی جدائی کا احساس ایک فرد یا خاندان تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے حلقہ احباب، سیاسی ساتھیوں اور سماجی تعلقات تک پھیل جاتا ہے۔
ایک سیاسی رہنما، ایک قبائلی شخصیت اور ایک سماجی خدمت گار
بسم اللہ خان لونی کی شخصیت کو یاد کرتے ہوئے ان کی سیاسی وابستگی، قبائلی حیثیت اور سماجی تعلقات کا ذکر ناگزیر ہے۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر کی حیثیت سے سیاسی میدان میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی سیاسی شناخت کے ساتھ قبائلی اور سماجی حلقوں میں ان کی موجودگی بھی ان کی شخصیت کا اہم پہلو تھی۔ہمارے معاشرے میں قبائلی اور سماجی رہنماﺅں کی ذمہ داریاں محض کسی عہدے یا منصب تک محدود نہیں ہوتیں۔ ان سے لوگوں کو بہت سی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔ عوام اپنے مسائل کے حل، باہمی رابطوں، سماجی معاملات اور مشکل حالات میں رہنمائی کے لیے ان کی طرف دیکھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عوامی زندگی سے وابستہ رہنا، لوگوں کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا اور اجتماعی مسائل کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ایک اہم ذمہ داری ہے۔بسم اللہ خان لونی کی زندگی اور ان سے وابستہ یادوں کا ذکر اسی تناظر میں کیا جانا چاہیے۔ ان کی شخصیت ان لوگوں کے لیے یادگار ہے جنہوں نے انہیں ایک سیاسی کارکن، قبائلی رہنما اور سماجی شخصیت کے طور پر دیکھا۔ ان کی چھٹی برسی اس بات کا موقع ہے کہ ان کی زندگی، ان کے کردار اور ان سے وابستہ یادوں کو نئی نسل تک پہنچایا جائے تاکہ عوامی زندگی میں خدمات انجام دینے والے افراد کی اہمیت کو سمجھا جا سکے۔
عوامی نیشنل پارٹی سے وابستگی اور سیاسی جدوجہد
عوامی نیشنل پارٹی ایک سیاسی جماعت ہے جس کی شناخت میں جمہوری سیاست، صوبائی خودمختاری، قوموں کے حقوق اور عدم تشدد کے سیاسی فلسفے کو اہم مقام حاصل ہے۔ بسم اللہ خان لونی اسی جماعت سے وابستہ تھے اور ضلعی صدر کی حیثیت سے ان کی سیاسی ذمہ داری تھی کہ وہ جماعتی سرگرمیوں، کارکنوں کے رابطوں اور سیاسی معاملات میں اپنا کردار ادا کریں۔کسی سیاسی جماعت کا ضلعی صدر ہونا محض ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اس منصب پر فائز شخص کو مختلف مزاج رکھنے والے کارکنوں سے رابطہ رکھنا، جماعتی امور میں دلچسپی لینا اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ سیاسی میدان میں کامیابی اور ناکامی دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن کسی کارکن اور رہنما کی پہچان اس کے عہدے کے ساتھ ساتھ اس کی وابستگی، مستقل مزاجی اور عملی کردار سے بھی ہوتی ہے۔بسم اللہ خان لونی کی یاد میں ان کی سیاسی وابستگی کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ ان کی زندگی کا ایک نمایاں حوالہ عوامی نیشنل پارٹی کی ضلعی قیادت تھا۔ ان کی برسی پر انہیں یاد کرنا ان کے سیاسی ساتھیوں اور ان تمام لوگوں کے لیے ایک موقع ہے جو ان کے ساتھ سیاسی سفر میں شریک رہے یا ان کی شخصیت سے متاثر ہوئے سیاسی اختلافات جمہوری معاشرے کا حصہ ہیں۔ نظریات اور سیاسی ترجیحات میں فرق اپنی جگہ، لیکن کسی بھی معاشرے میں سیاسی و سماجی زندگی کے لیے کام کرنے والے افراد کی خدمات اور ان کی جدائی کے انسانی پہلو کو یاد رکھنا بھی ضروری ہے۔ بسم اللہ خان لونی کی برسی اسی انسانی احساس اور یادداشت کی ایک کڑی ہے۔
محکوم اقوام کے حقوق کا تصور اور اجتماعی جدوجہد
بسم اللہ خان لونی کے حوالے سے ان کے چاہنے والے انہیں محکوم اقوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ یہ پہلو ان کی سیاسی شناخت کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ حقوق، انصاف، مساوات اور باوقار زندگی کی خواہش ہر معاشرے کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔ سیاسی کارکنوں اور سماجی رہنماﺅں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے مسائل کو اجاگر کریں اور ان کے حل کے لیے جمہوری اور پرامن ذرائع سے آواز بلند کریں۔بلوچستان جیسے متنوع معاشرتی اور قبائلی ماحول میں عوامی مسائل، معاشی مشکلات، تعلیمی مواقع، صحت کی سہولتوں اور بنیادی حقوق کے معاملات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسے حالات میں سیاسی و سماجی قیادت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو سمجھنے، متعلقہ اداروں تک پہنچانے اور اجتماعی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔بسم اللہ خان لونی کی یاد ہمیں اس وسیع تر حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ معاشروں کی تعمیر صرف حکومتی اداروں یا بڑے منصب رکھنے والے افراد کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ اس میں سیاسی کارکنوں، قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات، اساتذہ، صحافیوں اور عام شہریوں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ جب مختلف طبقات اپنے اپنے دائرہ کار میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اجتماعی زندگی میں بہتری کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔کسی مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اس کی زندگی سے وابستہ مثبت اقدار کو یاد رکھا جائے اور معاشرے میں ان اصولوں کو فروغ دیا جائے جو عوامی بھلائی، انصاف اور باہمی احترام کے لیے ضروری ہیں۔
قبائلی روایات، سماجی تعلقات اور انسانی احترام
قبائلی معاشرے میں انسان کی شناخت صرف اس کے نام یا عہدے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے خاندانی تعلقات، سماجی روابط، لوگوں کے ساتھ برتاﺅ اور اجتماعی معاملات میں اس کی شرکت سے بھی ہوتی ہے۔ قبائلی عمائدین اور سماجی شخصیات مختلف خاندانوں اور طبقات کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کی موجودگی بعض اوقات لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور مشترکہ معاملات پر گفتگو کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔بسم اللہ خان لونی کو ایک ممتاز قبائلی اور سماجی رہنما کے طور پر یاد کرنا ان کی شخصیت کے اسی پہلو کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے نام کے ساتھ وابستہ سماجی شناخت ان لوگوں کی یادوں میں اہمیت رکھتی ہے جنہوں نے ان کے ساتھ مختلف مواقع پر تعلق اور رابطہ رکھا۔
انسانی زندگی کی اصل قدر اس بات میں بھی پوشیدہ ہے کہ انسان اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ کس طرح کے تعلقات قائم کرتا ہے اور اپنی موجودگی میں دوسروں کے لیے کس قدر آسانی اور خیر خواہی کا سبب بنتا ہے۔ سماجی زندگی میں اعتماد، احترام، خلوص اور باہمی تعاون بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی اقدار لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں اور کسی شخصیت کی یاد کو دیرپا بناتی ہیں۔ چھ سال بعد بسم اللہ خان لونی کی برسی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسانی تعلقات اور مشترکہ یادیں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں۔ کسی شخص کی عدم موجودگی میں بھی اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات، اس کی گفتگو اور اس سے وابستہ واقعات لوگوں کے حافظے کا حصہ رہتے ہیں۔
عین جوانی میں جدائی کا ناقابل تلافی صدمہ
بسم اللہ خان لونی کی وفات کا سب سے دردناک پہلو یہ تھا کہ وہ عین جوانی میں اچانک اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ زندگی کے اس مرحلے پر انسان کے سامنے بہت سے امکانات، ذمہ داریاں اور مستقبل کے خواب ہوتے ہیں۔ خاندان کو اس سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، دوست احباب اس کے ساتھ مستقبل کے منصوبے بناتے ہیں اور سیاسی و سماجی زندگی میں بھی اس کے لیے آگے بڑھنے کے کئی راستے موجود ہوتے ہیں۔ جب ایسا شخص اچانک دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کے ساتھ وابستہ تمام لوگوں کے لیے اس حقیقت کو قبول کرنا آسان نہیں ہوتا۔ خاندان اپنے عزیز کی جدائی برداشت کرتا ہے، دوست اپنے ساتھی کی کمی محسوس کرتے ہیں اور سیاسی رفقا اس شخص کی عدم موجودگی کو یاد کرتے ہیں جس کے ساتھ انہوں نے ایک سفر گزارا ہوتا ہے۔موت ایک اٹل حقیقت ہے، لیکن کسی عزیز یا ساتھی کی اچانک جدائی انسان کو زندگی کی ناپائیداری کا احساس دلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برسی کے مواقع محض یادگاری دن نہیں ہوتے بلکہ یہ اپنے پیاروں کو یاد کرنے، ان کے لیے دعا کرنے اور ان کے ساتھ وابستہ اچھی یادوں کو تازہ کرنے کے مواقع بھی ہوتے ہیں۔بسم اللہ خان لونی کے چاہنے والوں کے لیے ان کی چھٹی برسی بھی ایسا ہی ایک موقع ہے۔ چھ برس گزرنے کے باوجود ان کی یاد کا برقرار رہنا اس بات کی علامت ہے کہ انسانی تعلقات محض وقت کے حساب سے نہیں بلکہ جذبات، تجربات اور مشترکہ یادوں کی بنیاد پر قائم رہتے ہیں۔
وقت گزر جاتا ہے، مگر یادیں باقی رہتی ہیں
زندگی کا سفر مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے۔ جو لوگ آج ہمارے ساتھ ہیں، کل ممکن ہے ہماری یادوں کا حصہ بن جائیں۔ لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا ذکر کسی خاص دن یا برسی تک محدود نہیں رہتا۔ ان کی یادیں مختلف مواقع پر تازہ ہوتی رہتی ہیں اور ان سے وابستہ لوگ انہیں اپنے انداز میں یاد کرتے رہتے ہیں۔
بسم اللہ خان لونی کی چھٹی برسی بھی ان کی یادوں کو تازہ کرنے کا موقع ہے۔ ان کے اہلِ خانہ، دوست احباب، سیاسی ساتھیوں اور سماجی حلقوں کے لیے یہ دن ان کی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو یاد کرنے اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا دن ہے۔کسی مرحوم کی زندگی پر قلم اٹھاتے ہوئے ضروری ہے کہ اس کے بارے میں بات کرتے وقت احترام، سچائی اور ذمہ داری کو ملحوظ رکھا جائے۔ خراج عقیدت کا مقصد محض تعریفی الفاظ دہرانا نہیں بلکہ اس شخصیت کی زندگی اور اس کے کردار کو اس انداز میں یاد کرنا ہے کہ آنے والے لوگ بھی اس سے واقف ہو سکیں۔ بسم اللہ خان لونی کی یاد میں لکھی جانے والی تحریر بھی اسی مقصد کی حامل ہے کہ ان کی سیاسی وابستگی، قبائلی شناخت، سماجی کردار اور اچانک جدائی کو یاد رکھا جائے۔
نئی نسل کے لیے ایک پیغام
بسم اللہ خان لونی کی چھٹی برسی نئی نسل کے لیے بھی غور و فکر کا موقع فراہم کرتی ہے۔ معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان تعلیم، شعور، ذمہ داری، برداشت اور باہمی احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی بات سننے، عوامی مسائل پر توجہ دینے اور اجتماعی بھلائی کے لیے پرامن جدوجہد کرنے کی روایت کو مضبوط کیا جائے۔سیاسی و سماجی زندگی میں کام کرنے والے افراد کے تجربات اور یادیں معاشرتی تاریخ کا حصہ ہوتی ہیں۔ جب کسی علاقے کی شخصیات کو یاد کیا جاتا ہے تو دراصل اس علاقے کی اجتماعی زندگی، سیاسی سفر اور سماجی تعلقات کی تاریخ بھی محفوظ ہوتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ مرحوم رہنماﺅں کے بارے میں مستند معلومات جمع کی جائیں، ان کی زندگی کے حقیقی واقعات کو محفوظ کیا جائے اور ان کی خدمات کو درست تناظر میں بیان کیا جائے۔بسم اللہ خان لونی کی یاد بھی اسی اجتماعی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ ان کی سیاسی شناخت اور سماجی حیثیت کو یاد کرتے ہوئے یہ پیغام آگے بڑھایا جاسکتا ہے کہ عوامی زندگی میں خدمت، ذمہ داری اور انسانی احترام کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
چھٹی برسی پر خراج عقیدت
آج جب بسم اللہ خان لونی کو ہم سے بچھڑے چھ سال مکمل ہو چکے ہیں تو ان کی یاد ایک بار پھر ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں تازہ ہے۔ وہ عین جوانی میں اچانک اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی شخصیت سے وابستہ یادیں اور ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات ان کے دوستوں، ساتھیوں اور جاننے والوں کے حافظے میں محفوظ ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر، ممتاز قبائلی اور سماجی رہنما کی حیثیت سے ان کا ذکر ان کی زندگی کے نمایاں حوالوں میں شامل ہے۔ ان کی برسی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ انسانی زندگی مختصر ضرور ہے، لیکن کسی شخص کے ساتھ وابستہ یادیں اور اس کے کردار کے اثرات طویل عرصے تک باقی رہ سکتے ہیں۔اس موقع پر مرحوم کے اہل خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب، سیاسی رفقا اور تمام چاہنے والوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ کسی اپنے کی جدائی کا خلا مکمل طور پر پر نہیں ہوسکتا، تاہم اچھی یادیں، دعائیں اور باہمی محبت غم کے اس سفر میں سہارا بنتی ہیں۔بسم اللہ خان لونی! آپ کو ہم سے بچھڑے چھ سال گزر گئے، مگر آپ کی یاد آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود آپ سے وابستہ یادیں اور آپ کی شخصیت کا حوالہ ان لوگوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے جنہوں نے آپ کو قریب سے دیکھا اور آپ کے ساتھ زندگی کے مختلف مراحل گزارے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ، عزیز و اقارب، سیاسی ساتھیوں اور تمام چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔