نوگو ایریاز کا خاتمہ، پولیس تھانوں کی بحالی، کوئلہ ٹرانسپورٹ کے تحفظ کا مطالبہ، ہرنائی گرینڈ جرگہ کا 14 نکاتی مشترکہ اعلامیہ

ہرنائی گرینڈ جرگہ

ماخذ: آئی این پی

کوئٹہ (آئی این پی) ہرنائی گرینڈ جرگہ کے منتظمین نے جرگہ کے شرکا اور تمام اقوام کے نمائندگان کی جامع تجاویز کی روشنی میں 14 نکاتی مشترکہ اعلامیہ متفقہ طور پر جاری کر دیا۔گرینڈ جرگہ میں ریاستی رٹ کی بحالی کے لیے تمام نمائندہ اقوام کے سربراہان پر مشتمل بااختیار کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریاستی رٹ کی بحالی کے لیے تمام نمائندہ اقوام کے سربراہان اور بزرگ رہنماں پر مشتمل ایک بااختیار مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی مشترکہ کمیٹی وفود کی شکل میں ضلعی، صوبائی و مرکزی سیاسی نمائندوں، حکومتی عہدیداروں، سیکیورٹی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے بااختیار حکام سے ملاقاتیں کرے گی کمیٹی مذاکرات کے ذریعے علاقے سے مسلح تنظیموں کی سرگرمیوں کے خاتمے، امن کی بحالی اور مقامی ٹرانسپورٹ کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے مطالبات پیش کرے گی۔ضلع ہرنائی میں پائیدار امن و امان کے قیام اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے زرغون غر، کوہِ خلیفت، دومڑ پیڑی، ہزارہ ڈم، وام تنگی، اختری، توڑی منہ، زوئی تنگی، کوریاک، پوڑ، میاں کچ اور اندرہ میں سیکیورٹی ادارے نوگو ایریاز کا خاتمہ کر کے ان علاقوں میں امن قائم کریں۔بند کیے گئے تمام پولیس تھانوں کو فوری طور پر فعال کر کے وہاں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں۔ہرنائی سنجاوی روڈ کے ذریعے کوئلے کی باحفاظت ترسیل کو ممکن بنانے کے لیے فوری اور قابلِ عمل اقدامات اٹھائے جائیں۔زیارت کچ تا ہرنائی اور ہرنائی تا سنجاوی سڑکوں کی ٹینڈرنگ کے عمل میں تیزی لائی جائے اور متعلقہ کنسٹرکشن کمپنی کو پابند کیا جائے کہ وہ زیرو پوائنٹ ہرنائی سے کام کا باقاعدہ آغاز کرے۔ ہرنائی سپین تنگی سڑک پر کام کی بندش کا فوری نوٹس لیا جائے اور ٹھیکیدار کمپنی کو فنڈز کی عدم فراہمی یا درپیش دیگر تمام رکاوٹوں کا فوری خاتمہ کیا جائے۔سپین تنگی تا سبی روڈ کی تعمیر و مرمت کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل بلا تاخیر شروع کیا جائے۔ ہرنائی تا سبی ریلوے لائن کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ ریلوے ٹریک کی بحالی میں کی گئی مبینہ خرد برد پر عدالتی کمیشن بنا کر تحقیقات کی جائیں۔ضلع میں اقلیتی برادری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ضلع ہرنائی میں منشیات فروشی، جوا اور چوری جیسے ناسور پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ آج کے بعد اگر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص سے کوئی لین دین، سودی کاروبار یا پلاٹ، موٹر سائیکل، گاڑی وغیرہ کی خرید و فروخت کی تو اس کی وصولی کا ذمہ دار صرف متعلقہ فریق ہوگا جس سے کاروبار کیا گیا ہو، اس کے قبیلے، بھائی یا خاندان کا کوئی فرد ذمہ دار نہیں ہوگا۔