پنجاب کے حکمران اورنج ٹرین پر کھربوں روپے خرچ کرتے ہیں، ہمارے لیے کچھ نہیں خوشحال کاکڑ

خوشحال کاکڑ

ماخذ: آن لائن

ژوب (آن لائن) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ قومی حقوق و اختیارات کے حصول کی جد وجہد کو مزید ، وسیع ، منظم اور تیز کریں گے اور یہ جدوجہد ہم پر فرض ہو چکا ہے کہ ہم اپنے غیور عوام کے سر و مال و عزت کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور قومی اتحاد و اتفاق قائم کرتے ہوئے اپنے وطن اور عوام کے حقوق پر سودا بازی نہیں ہونے دینگے ، زندگی کے بنیادی ضروریات اور سہولیات کی فراہمی ریاست اور ان کے حکومتوں کی زمہ داری ہے ۔ وہ ژوب نیو اڈہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے جس سے پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، حاجی ظاہر شاہ پخیزئی ، خدائے دوست کبزئی ، مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبد الجبار مندوخیل ، ٹرانسپورٹ یونین صدر عبدالجبار حرمزئی ، مولوی عبد اللہ مندوخیل ، مامون شعور نے بھی خطاب کیا ۔ جبکہ ملک عطا اللہ کاکڑ نے پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کو اور شہزادہ کاکڑ نے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا کو پشتنی دستار پہنائے ۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ ژوب کے غیور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ واضح کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں ہماری نمائندگی آپ کی حمایت اور ووٹ کے باعث ممکن ہوا اور ہم اِس نمائندگی کے ذریعے آپ کے تمام مسائل ہر فورم پر اجاگر کرنے اور انہیں حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے ، اور اس نمائندگی کے ذریعے ملک کے محکوم اقوام اور مظلوم عوام کو اذیت ناک صورتحال سے نجات دلانے کے لیے آواز بلند کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ژوب شہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر اور اِس علاقے کا مرکز ہے اِس میں ہر سطح پر ترقی کے کاموں کی اشد ضرورت ہے ۔ ژوب منڈی کے ساتھ نئے اڈے کی بحالی ضروری ہے اور اس کے ساتھ نیشنل ہائی وے حکام کو ژوب ٹانک شاہراہ ، ژوب سمبازہ ، ژوب قمردین اور ژوب مرغہ کبزئی روڈ پھر تونسہ شریف روڈ کی تعمیر ضروری ہے اور ژوب کوئٹہ نیشنل ہائی وے کی تعمیر میں مزید سستی اور کاہلی ناقابلِ قبول ہے جبکہ ژوب شہر کے ساتھ بائی پاس روڈ کی وسیع تعمیر اشد ضرورت ہے اور اس کے لیے وزیراعظم سمیت تمام حکام سے ملاقاتیں کرکے یہ صورتحال ان پر واضح کر دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دریاﺅں کے صاف پانی کا 80 فیصد پشتونوں کا ہے ، اباسین کے پانی میں سے جنوبی پشتونخوا کو دس فیصد پانی دیا جائے تو ہمارے عوام کی قسمت بدل سکتی ہے ۔ چین ، امریکہ سمیت مختلف ممالک میں دانہ سر سے بڑے پہاڑوں سے بھی پانی گزارا جا چکا ہے ۔ پنجاب کے حکمران اپنے لیے اورنج ٹرین سمیت جیسے منصوبوں پر کھربوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن ہمارے لیے کچھ نہیں ۔ ملی شہید عثمان لالا نے تجویز کیا تھا کہ دریائے ژوب کے لیے دو سو چالیس ارب روپے کے پراجیکٹ کو منظور کیا جائے تو اس سے قلعہ سیف اللہ ، ژوب ، عبداللہ زئی ، شیرانی سمیت تمام علاقہ سیراب ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ژوب کا علاقہ اکنامک زون ڈیکلیئر کرنے کا حقدار ہیں اور یہاں لوگوں کو گرانٹ اور بغیر سود کے قرضے دیا جائے اور ژوب میں بڑی یونیورسٹی کی تعمیر اشد ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سروے کے مطابق کم ترقی یافتہ ضلع شیرانی اور اس کے آس پاس علاقے ہیں ۔ ملی شہید عثمان لالا نے پسماندہ علاقوں کے کمیٹی کے چیئرمین کے حیثیت سے کام کیا تھا اور اِن علاقوں غربت سب سے زیادہ ہے لیکن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اِن غربت زدہ علاقوں ژوب شیرانی اور قلعہ سیف اللہ کو ان کا حصہ نہیں مل رہا اور وفاق کی طرف سے اِن پسماندہ علاقوں کے لیے ایک روپے تک کی پراجیکٹ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پورے پشتونخوا وطن پر مصنوعی دہشت گردی اور لاقانونیت مسلط کی گئی ہے اور کا مقصد اِس بدامنی کے آڑ میں ہمارے وطن کے معدنی وسائل پر قبضہ اور ان کی لوٹ مار ہے جو کسی صورت قابلِ برداشت نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اِس مسلط مصنوعی دہشت گردی کی وجہ سے ہمارے معصوم پشتون عوام کو بدترین اور اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہے اور ہمیں اور آپ کو اپنے علاقوں سے بیدخل کرنے سازشیں بھی اس کا حصہ ہے لیکن پشتون غیور عوام نے اپنے آبا و اجداد کی طرح قومی اتحاد و اتفاق کی راہ اپناتے ہوئے متحد و منظم ہو کر اِن سازشوں کے خلاف ڈٹ جانا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اِس مصنوعی مسلط دہشت گردی ، بدامنی ، لاقانونیت کے خلاف اور آپ کے مسائل کے حل کے لیے تحریک چلانے کی ضرورت پڑی تو پارٹی بھرپور احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی ۔ ہماری تمام غیور ملت سے اپیل ہے کہ وہ ہر قسم کے اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے وطن ان کے وسائل ، عوام کے سر و مال کی حفاظت اور ترقی و خوشحالی کے حصول کے لیے مشترکہ آواز بلند کریں ۔