کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کا پارٹی کے سینئر رہنماﺅں کے ساتھ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا منتخب وزیرِ اعلیٰ کو نااہل کرانے کی کوشش کے خلاف اہم پریس کانفرنس۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے حکمرانوں نے کبھی بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا، بلوچستان نیشنل پارٹی اس ملک میں واحد ‘فارم 45’ کی خیبر پختونخوا حکومت اور وزیرِ اعلیٰ کے خلاف سازش کی شدید مذمت کرتی ہے اور 4 اکتوبر کے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہیں۔ اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری احمد نواز بلوچ، مرکزی خواتین سیکرٹری شکیلہ نوید دہوار، بی ایس او مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، ممبرز سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی چیئرمین واحد بلوچ، ٹکری شفقت لانگو، میر مقبول لہڑی، شمائلہ اسماعیل، ضلع کوئٹہ آرگنائزر حاجی وحید لہڑی، میر الطاف شاہوانی، میر وائس مینگل، نعمت ہزارہ، میر اسماعیل مینگل، مصطفیٰ سمالانی، سمیت پارٹی کے دیگر رہنما موجود تھے۔ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی، عمران خان کے اس مینڈیٹ کا مکمل احترام اور حمایت کرتی ہیں جو عوام نے انہیں دیا ہے، بی این پی نے ہمیشہ ظالم اور مظلوم کے درمیان جنگ میں مظلوم کا ساتھ دیا ہے۔ہم اس ملک کے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جب بھی اس ملک میں عوام کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا، ہم نے اس کے بدترین نتائج دیکھے ہیں، بنگال ہمارے سامنے سب سے بڑی مثال ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی پختونخوا میں گورنر راج یا کسی بھی غیر آئینی اقدام کے خلاف کھڑی ہوگی، یہ شرمناک بات ہے کہ غیر منتخب افراد کا چار کروڑ عوام کے وزیراعلیٰ کو دہشت گرد یا دہشت گردوں کا حامی قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح بلوچستان کی پہلی منتخب حکومت، سردار عطاءاللہ خان مینگل کی حکومت کو صرف 8 ماہ میں غیر قانونی طور پر برطرف کر دیا گی ، اور ہم نے دیکھا کہ اگلے چار سال تک اسمبلی کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا کیونکہ کٹھ پتلی حکومت کے پاس اکثریت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں پشتون اور بلوچ کو ہمیشہ سیکورٹی رسک کیوں سمجھا جاتا ہے؟ بی این پی نے ہمیشہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جاری جبر کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ غیر قانونی سزائیں دے کر وہ عوام کی آوازوں کو خاموش کرسکتے ہیں، تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ گزشتہ 75 سال سے بلوچوں اور پشتونوں کو صرف ان کے قدرتی وسائل کی وجہ سے لاشیں ہی مل رہی ہیں۔ اگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی کٹھ پتلی حکومتیں گورنر راج میں اتنی ہی دلچسپی رکھتی ہیں، تو وہ بلوچستان سے اس کا آغاز کیوں نہیں کرتیں، کیونکہ بلوچستان کے 85 فیصد حصے میں حکومت کی رٹ قائم نہیں ہے؟ آج کشمیر جسے وہ اس ملک کی شہ رگ کہتے رہے، لیکن اب کشمیریوں کو بھی غدار قرار دیا جاتا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی ، سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی ملک میں باقی تھوڑی جمہوریت جو رہ گئی ہیں کی قبر کھودنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ اسلام آباد کی جانب سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ہمیشہ کالونی جیسا سلوک کیا گیا ہے۔ اس ملک میں عدلیہ اب ایک مذاق بن چکی ہے، خاص کر حالیہ ترامیم کے بعد، ‘فارم 47’ کے حکمران خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو ایسی نہج پر دھکیل رہے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نا ہوں۔
بلوچستان کے 85 فیصد حصے پر حکومتی رٹ نہیں، خیبر پختونخوا کے بجائے یہاں گورنر راج لگایا جائے، ساجد ترین
