پمز اسپتال سانحے پر وزیراعظم کا اظہار برہمی، وفاقی سیکرٹری صحت معطل، اجلاس سے نکال دیا، تحقیقاتی کمیٹی قائم

اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے نومولود بچوں کی اموات کے واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم نے سانحے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سخت ترین کارروائی کے احکامات جاری کردیے اور وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کردیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے سیکرٹری صحت کو اجلاس سے جانے کا کہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس اندوہناک واقعے پر دل رنجیدہ ہے، حکومت غمزدہ والدین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ وزیراعظم نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نویل اعوان سمیت دیگر حکام کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پمز اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی غلطی کا مرتکب ہوا اسے نہیں چھوڑیں گے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے استعفا دینے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ احتساب کیلئے سب سے پہلے خود کو وزیراعظم کے آگے پیش کیا ہے، وزیراعظم میرے باس ہیں، وہ جو بھی فیصلہ کریں۔