اسلام آباد (ویب ڈیسک) نیپال اور چین کے علاقے تبت کی سرحد پر مٹی اور چٹانیں دریا میں گرنے کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور سیکڑوں سیاح لاپتا ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بدھ کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں نیپال اور چین دونوں جانب کے حکام نے ہلاکتوں میں اضافے اور بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ نیپال میں کئی مکانات، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں جبکہ دوسری جانب تبت کے حکام نے بتایا ہے کہ سرحدی گزرگاہ پر مٹی کا تودہ گرنے کے بعد بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مٹی کا تودہ نیپالی سرحد کی جانب گرا جس نے گیرونگ پورٹ کو متاثر کیا اور سرحدی علاقے میں سڑکوں، مواصلات اور بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ نیپال کی ٹورازم اتھارٹی کے مطابق متاثرہ علاقے میں کم از کم 384 سیاح لاپتا ہیں جن میں 105 بھارتی، 93 نیپالی، 12 برطانوی اور 3 امریکی شہری شامل ہیں۔
تبت میں تباہ کن سیلاب سے 22 افراد ہلاک، سیکڑوں سیاح لاپتا ہوگئے
