کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ بلوچستان کے ضلع عبداللہ میں افیون اور چرس کی پیداوار ہورہی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی جانب سے کسٹمزکے گودام سے سگریٹوں کی بھاری مقدارکی چوری پر بنائی گئی سب کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔ اجلاس میں ایف آئی اے کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ معاملے پر متعدد افسران کو نوٹسزجاری کیے جاچکے ہیں، اس کے علاوہ کئی افسران سے تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں جونہی ان نوٹسز کا جواب آتا ہے ہم اپنی رپورٹ تیار کرلیں گے۔ کمیٹی اجلاس میں ایرانی تیل کی پاکستان میں اسمگلنگ کے معاملے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ کسٹم حکام نے کمیٹی کے پوچھنے پر بتایا کہ بلوچستان کے چار اضلاع پنجگور، گوادر، کیچ اور واشک میں ایرانی تیل بیچنے کی اجازت ہے اور اس وقت روزانہ کا 30 لاکھ لیٹر وہاں پر ایران سے لایا جا رہا ہے، تیل کی یہ مقدار مختلف دنوں میں مختلف ہوتی ہے، کبھی یہ 3 ملین لیٹر روزانہ سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کسٹم حکام کا کہنا تھا کہ ان علاقوں کو اسمگل شدہ تیل کی اجازت اس لئے بھی دی جاتی ہے کہ ان علاقوں میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرول پمپ وغیرہ نہیں بنائے جاتے، وہاں پر یہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تیل فراہم نہیں کرتیں، اس لئے مقامی لوگوں کو سہولت دینے کیلئے یہ اقدام کیا جاتا ہے۔ کسٹم حکام کی جانب سے وضاحت پر کنوینر کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے اس بارے میں جواب مانگیں، ان سے پوچھیں کہ ایسا کیوں ہے۔ انہوں نے ایف آئی اے سے بھی کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل سپلائی کرنیوالی ٹرانسپورٹ کمپنیاں ان علاقوں میں تیل سپلائی نہیں کرتیں لیکن ان علاقوں میں تیل سپلائی کرنے کے پیسے حکومت سے لیتی رہتی ہیں۔ کسٹم حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں 2.5 ارب روپے کی پیٹرولیم مصنوعات جو اسمگل ہورہی تھیں کو پکڑا گیا ہے۔ کمیٹی رکن سینیٹر عمر فاروق نے بتایا کہ بلوچستان میں اس وقت بھی تیل پاکستان کے دیگر علاقوں سے بہت سستا ہے، وہاں شہروں کے اندر پیٹرول 240 روپے جبکہ اڈے کے اندر سے 210 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمگلر پہلے کسٹم والوں کو پیسے دیتے ہیں پھر اسمگلنگ کرتے ہیں۔ کنوینرکمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پورا ملک اس وقت کرپشن پر چل رہا ہے مگر یہ اسمگلنگ کسٹم حکام کو نظر نہیں آتی، تیل کی اسمگلنگ میں ملوث لوگ اپنی وڈیو تک بناتے ہیں، جب بھی کمیٹی سے نکلتا ہوں ایف بی آر مجھے نوٹس جاری کر دیتی ہے، پانچ سے چھ نوٹس گھر آئے ہوئے تھے مگر میں ڈرنے والا نہیں ہوں کیونکہ میرا کوئی بیٹری یا تمباکو کا کاروبار نہیں جو میں گھبرا جاﺅں۔ کمیٹی اجلاس میں انکشاف ہوا کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں افیون اور چرس کی پیدوار کھلے عام جاری ہے۔ کمیٹی نے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے معاملے پر چیف سیکرٹری بلوچستان کو نوٹس کریں اور انہیں طلب کرکے پوچھیں، اگر وہ نہیں آتے تو جہاز بھیجیں اور انہیں اٹھا کر لے آئیں۔ کنوینر کمیٹی نے ایف آئی اے کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کے پی کے اور بلوچستان میں ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں موجود فیکٹریوں کے باہر ناکے لگائیں اور ان سے رپورٹس طلب کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس سے مستشنی علاقوں میں قائم فیکٹریوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں، فاٹا اور پاٹا کرپشن کے حب بن چکے ہیں۔ ٹیکس چوری کیا جارہا ہے، کے پی وزیراعلیٰ گیارہ سو ارب روپے مانگ رہا ہے۔ ترقیاتی کام تو ہو نہیں رہا۔ کمیٹی کو کسٹم حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ کے پی کے کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں واقع اسٹیل ملز نے پانچ سال کے دوران 100 ارب روپے سے زائد کا خام مال امپورٹ کیا۔ اسی طرح گھی اور دیگر فیکٹریوں کی جانب سے 320 ارب روپے مالیت کا سامان بیرون ممالک سے منگوایا گیا۔ کنوینر کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سارے مافیاز خیبر پختونخوا میں کام کررہے ہیں، ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ کنوینر کمیٹی نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ ٹیکس سے مستشنیٰ علاقوں میں فیکٹریوں پر چھاپے مارے جائیں، ایف بی آر اور کسٹم حکام ان فیکٹریوں کے باہر اپنی پکٹس لگائیں سب کو چیک کریں، اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے، ملک کیلئے کچھ کرجائیں، ٹیکس سے مستثنیٰ علاقے ملک کیلئے ناسور ہیں۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ہدایت کی کہ قبائلی علاقوں میں TESCO چیف کو نوٹس کرکے فیکٹریوں کے بجلی کے بل چیک کریں اور تفصیلات منگوائیں۔ انہوں نے کہا کہ NTDC کے ایک ٹھیکے میں 1.28 ارب روپے ٹیکس کی مد میں ایک کمپنی کو دے دیے گئے، ان سے بھی ریکوری کروائیں، فاٹا اور پاٹا ٹیکس سے مستثنیٰ علاقے ہیں وہاں پر گھی اور اسٹیل کی فیکٹریاں لگائی ہوئی ہیں، یہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقے ملک کیلئے ناسور ہیں، بتائیں ان علاقوں میں جو پیداوار ہوئی وہ ان علاقوں میں کہاں سپلائی کی گئیں۔ کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی سربراہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے فیلڈ مارشل کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا جو 10 دن سے پاکستان میں چل رہا ہے یہ ایک حقیقت ہے، تاریخ مین بہت کم ایسے مواقع آئے ہیں اور یہ سب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وجہ سے ممکن ہوا۔
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بلوچستان میں منشیات کی کاشت اور پیٹرول کی اسمگلنگ پر چیف سیکرٹری کو طلب کرلیا
