اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار اور وفاقی وزیر ہارون اختر خان کی زیر صدارت پاک چین بزنس ٹو بزنس (B2B) تعاون اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر عملدرآمد کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام متعلقہ وزارتوں، محکموں، سرکاری اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دورہ چین اور پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنسز نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کے لیے نئے مواقع اور راستے کھولے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بزنس ٹو بزنس روابط کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں کروڑوں ڈالر مالیت کے متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور مشترکہ منصوبوں (Joint Ventures) پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر نے اس امر پر زور دیا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک چین معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کو ٹھوس اور قابل عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کافی نہیں، اصل کامیابی ان معاہدوں کو عملی شکل دینے اور سرمایہ کاری و مشترکہ منصوبوں کا آغاز یقینی بنانے میں ہے۔ ہارون اختر خان نے ہدایت کی کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق تمام مفاہمتی یادداشتوں پر مسلسل فالو اَپ کیا جائے تاکہ ان پر بروقت پیش رفت اور موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان پاک چین بزنس ٹو بزنس تعاون کو عملی سرمایہ کاری، مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات میں اضافے میں تبدیل کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ وزیراعظم کے مشیر نے لیتھیم آئن بیٹری، زراعت اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں میں ہونے والے بزنس ٹو بزنس روابط کو غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں چینی کاروباری اداروں کی بھرپور شرکت پاکستان کے لیے ایک اہم صنعتی موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے فروغ کے لیے چین کے ساتھ بزنس ٹو بزنس روابط کو مزید مضبوط بنائے گا۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کو پاکستان لانا اور اسے مقامی پیداوار اور برآمدات سے منسلک کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں، محکموں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مو¿ثر رابطہ کاری اور تعاون کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ پاک چین بزنس ٹو بزنس روابط کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت کو ٹھوس سرمایہ کاری، پیداواری سہولیات، مشترکہ منصوبوں اور برآمدات پر مبنی صنعتی منصوبوں میں تبدیل کیا جا سکے۔
چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کو پاکستان لاکر فائدہ اٹھایا جائیگا، مشیر برائے صنعت و پیداوار
