ایڈووکیٹ شہریار اچکزئی کا مبینہ اغواء قانون کی حکمرانی پر سنگین سوال، فوری بازیاب کرایا جائے، سینیٹر کامران مرتضیٰ

سینیٹر کامران مرتضیٰ

کوئٹہ (ویب ڈیسک) جمعیت وکلاءفورم پاکستان کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے وکیل ساتھی ایڈووکیٹ شہریار اچکزئی کے مبینہ اغواءکے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکیل کا اغواءانتہائی تشویشناک اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈووکیٹ شہریار اچکزئی آج صبح اپنے دوست کو ایئرپورٹ پر لینے گئے تھے، تاہم واپسی پر مبینہ طور پر نامعلوم افراد کی جانب سے انہیں اغوائ کیے جانے کی اطلاعات انتہائی باعثِ تشویش ہیں۔ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مغوی وکیل کا سراغ نہ ملنا اور عملی پیش رفت کے بجائے محض زبانی یقین دہانیاں ناقابلِ قبول ہیں۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایڈووکیٹ شہریار اچکزئی کو بحفاظت بازیاب کرائیں، واقعہ کی شفاف اور مو¿ثر تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو بلا تاخیر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وکلائ کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کسی وکیل کا اغواءصرف ایک فرد کے خلاف جرم نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، عدلیہ اور پورے قانونی نظام کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 18 اگست کو مکمل عدالتی ہڑتال کے اعلان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری اور مو¿ثر اقدامات کرے تاکہ وکلاءکو احتجاج کے سخت لائحہ عمل کی طرف جانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ انہوں نے ایڈووکیٹ شہریار اچکزئی کی فوری اور بحفاظت بازیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ وکلاءبرادری اس مشکل گھڑی میں ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔