اشاعتی ڈیسک: روزنامہ بلوچستان نیوز ویب ڈیسک
چمن (ویب ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کو رہا کردیا گیا۔ 21 اکتوبر کو ضمانت مسترد ہونے پر اصغرخان اچکزئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ قتل کے مقدمے میں گرفتار اصغر اچکزئی کو عدالت نے پہلے 4 پھر 7 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ مقتول کے والد کے بیان کے بعد اصغر خان اچکزئی کو مقدمے سے ڈس چارج کردیا گیا۔ دوسری جانب ملک اصغر خان عرف سورگل کی جیل سے رہائی اور مبینہ اہم معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ اصغر خان عرف سورگل کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رہائی کے حوالے سے حکومت اور ملک اصغر خان کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معاہدے کے تحت ملک اصغر خان آئندہ حکومت پاکستان یا ریاستی اداروں کیخلاف سخت زبان میں تقاریر نہیں کریں گے، جبکہ اگر کسی معاملے پر بات کریں گے تو نرم اور محتاط لہجہ اختیار کریں گے۔ ذرائع کے مطابق معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں چمن کی نشست کے حوالے سے حکومت کی جانب سے ملک اصغر خان کی حمایت اور کامیابی کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک اصغر خان حکومت پاکستان کے اہم مفادات اور ریاستی پالیسیوں کے دفاع میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔ذرائع کے مطابق ان نکات سمیت بعض اہم معاملات پر دونوں جانب سے دستخط کیے گئے، جس کے بعد ملک اصغر خان کو جج کی عدم موجودگی کے باوجود جیل سے رہا کر دیا گیا۔
