بلوچستان کا نام نہاد بجٹ صوبے کے غریب عوام کیساتھ مذاق کے مترادف ہے، پشتونخوا میپ

کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پشتون بلوچ صوبہ بلوچستان میں مالی سال 2026-27بجٹ سرپلس ہونے کے باوجود ہیرا پھیری، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی، صوبہ کو پسماندگی کی طرف دانستہ طور پر دھکیلنے او رعوام کے خزانے کو برباد کرنے کے مترادف ہیں اور پارٹی بے اختیار مسلط اور فارم 47کے غیر عوامی نمائندوں کی حکومتی بجٹ کو کھلی طو رپر مسترد کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بجٹ کا کل حجم 1089ارب ظاہر کیا گیا ہے جس میں غیرترقیاتی بجٹ کا حجم 797ارب اور ترقیاتی بجٹ 206ارب ظاہر کیا گیا ہے،بجٹ کا کل حجم اور ترقیاتی وغیرترقیاتی کے درمیان 86ارب کا فرق ہے جسے خرچ کرنے کی کوئی منظوری اور نشاندہی نہیں اور صرف یہی نہیں 45ارب سرپلس کا ذکر موجود ہے مگر خرچ کا ذکر نہیں۔ جو بجٹ مینول کی صریحاً خلاف ورزی ہے اس طرح 131ارب کی آمدنی کا ذکر ہے لیکن خرچ کرنے کا نہیں اور یہ غریب عوام کے خزانے کے ساتھ سنگین مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کی تھروفاورڈ تقریباً 9کھرب سے زیادہ ہے اور آن گونگ (جاری) اسکیمات کو پیسے نہ دینا اور اسکیمات کی تکمیل میں تاخیر اور مہنگائی بڑھنے سے لاگت میں مسلسل اضافہ اور اس کا بوجھ عوام کے خزانے پر ڈالنا اور نیو اسکیمات میں خصوصاً پیداواری مدات کے لیے صرف ترقیاتی بجٹ کا زیادہ سے 3فیصد رکھنا دراصل صوبے کو مرکز کے بھکاری کے طور پر پیش کرنے کے مترادف ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل سیکٹر میں تعلیم اور صحت کو ایک مرتبہ پھر ترقیاتی بجٹ میں نظر انداز کرنا اور صوبے کے تعلیم اور محکمہ صحت کی تنخواہوں کے غیر ترقیاتی بجٹ کو ترقیاتی بجٹ میں شامل کرنا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ غریب عوام اور صوبے کی تعلیمی ریشو 45 فیصد سے کچھ زیادہ جو دنیا کے غریب ممالک میں بھی شاید سب سے کم ترین ریشو ہوگی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام صوبہ جس کا سالانہ اوسط سیلابی پانی 12.00 ملین ایکڑ فٹ سے زیادہ ہے کو ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ منصوبہ نہیں۔ صوبے کے اکثر اضلاع میں پینے کا پانی نایاب ہوگیا ہے اور مسلسل نایاب ہوتا جارہا ہے جس کے باعث آباد علاقوں سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے امن وامان کی خراب صورتحال پر پہلے ایف سی کے قلعے اور اب پولیس کے قلعے تعمیر کیے جارہے ہیں۔ ایف سی کے قلعوں سے پہلے سے موجود امن مکمل ختم ہوگئی ہے اور بدامنی کی وجہ سے لوگ اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت پر مجبور ہیں۔ جب امن وامان کا بجٹ ایک ارب سے کم تھا تو امن وامان تھا۔ لیکن اب تقریباً بجٹ بڑھ کر 90ارب تک پہنچ چکا ہے اور جس رفتار سے بجٹ بڑھ رہا ہے اسی رفتار سے امن وامان برباد ہوتا جارہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کی ترقی کی باتیں دراصل فارم 47 کے غیر منتخب مسلط نااہل، ناکام حکومت کے نام نہاد ایم پی ایز کی جیبوں کی ترقی ہے اور صوبے کا ہر باسی اس کا اعتراف کررہا ہے، قدرت نے صوبے کو وسائل دیے ہیں لیکن وسائل کے ساتھ اعلیٰ معیار کے سوداگر دیے ہیں جو عوام کے وطن اور ان کے خزانوں کو نیلام کرنے سے نہیں کتراتے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی بجٹ جیسے حساس موضوع میں ہیر پھیر کو بدترین دیانتی، دھوکہ دہی اور بلوچستان خصوصی ترقیاتی اقدام کے نام پر 40 ارب یکجا رکھنے کی تفصیل نہ دینے کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد اور سپریم کورٹ کے بجٹ مینول اور بجٹ بارے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ غیر عوامی بجٹ کو صوبے کا کوئی بھی باسی عدالت میں چیلنج کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔