ماخذ: یو این اے
کوئٹہ (یو این اے) بلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (S&GAD) کا اجلاس اسمبلی کے کمیٹی روم میں چیئرمین کمیٹی سید ظفر علی آغا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں بلوچستان مخبر تحفظ بل 2026 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین میر جہانزیب مینگل، شاہدہ رﺅف اور پارلیمانی سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی عبدالمجید بادینی نے شرکت کی، جبکہ اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمن، ایڈیشنل سیکرٹری کمیٹیز عبدالصبور خان، ریگولیشن ایکسپرٹ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن محمد رفیق اور ڈپٹی سیکرٹری قانون احسان برکت بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس کے دوران بلوچستان مخبر تحفظ بل 2026 کی مختلف شقوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ بل کا بنیادی مقصد صوبے میں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری امور میں بے ضابطگیوں سے متعلق عوامی مفاد میں معلومات فراہم کرنے والے افراد کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے، تاکہ شہری بلاخوف و خطر متعلقہ حکام تک درست معلومات اور شکایات پہنچا سکیں۔کمیٹی کے اراکین نے بل کی مختلف شقوں پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ عوامی مفاد میں نیک نیتی کے ساتھ معلومات فراہم کرنے والے افراد کو ممکنہ انتقامی کارروائی، ہراسانی، امتیازی سلوک اور دیگر نقصان دہ اقدامات سے تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ درست اور مستند معلومات فراہم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی، مناسب انعامات کے طریقہ کار اور جھوٹی، بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی شکایات کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سید ظفر علی آغا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے خاتمے، سرکاری اداروں میں شفافیت کے فروغ اور انتظامی امور میں بہتری کے لیے موثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد میں معلومات فراہم کرنے والے افراد کو قانونی تحفظ دینے سے سرکاری معاملات میں جوابدہی اور شفافیت کو فروغ ملے گا، جبکہ بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی نشاندہی کے لیے ایک مثر نظام قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون سازی کا مقصد نہ صرف بدعنوانی کی روک تھام بلکہ ایک ایسا منصفانہ اور شفاف نظام تشکیل دینا بھی ہے جس میں شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور سرکاری ادارے اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بل کی تمام شقوں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر قانون کو موثر، قابل عمل اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ بنانا ضروری ہے، تاکہ اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔ تفصیلی غور و خوض اور شق وار جائزے کے بعد قائمہ کمیٹی نے بلوچستان مخبر تحفظ بل 2026 کو مزید منظوری کے لیے ایوان میں پیش کرنے کی سفارش کی۔
