رینجر اورڈینجر

رینجر اورڈینجر

اس عہد میں عزت سے بڑا کوئی سرمایہ نہیں لہٰذاءکوئی عزت دارانسان دوسرں کو عزت دیتے ہوئے بخیل نہیں ہوسکتا۔ جو اپنے دونوں ہاتھوں سے عزت بانٹتا ہے دنیا کی کوئی طاقت اسے تعظیم و تکریم اورتقدیس سے محروم نہیں کرسکتی۔ انسان کے افکار وکردار سے اس کی شخصیت، تربیت، ترتیب اورتاثیر کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ پچھلے دنوں قصور کے گنڈا سنگھ بارڈر پر پنجاب رینجرز کے دیوقامت آفیسرعاصم نے جس آبرومندانہ انداز سے بھارت کے باوردی فوجی آفیسر کو سلیوٹ کیا تو وہ ہم وطنوں اور اوورسیز پاکستانیوں سمیت دنیا بھر کے عزت داروں کی نگاہوں کا مرکز و محور بن گیا۔الحمدللہ پاک فوج کاضابطہ اخلاق اس کے جانبازوں کوسراپااخلاق بنادیتا ہے۔آئی ایس پی آر، اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب اوررینجرز پنجاب سمیت پاک فوج سے وابستہ متعدد شعبہ جات کے شیریں ثمرات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔پاک فوج کے زیراہتمام پیشہ ورانہ تربیت کاکام اپنے آفیسرز اورجوانوں کو نایاب” ہیروں“ اور”ہیروز“ کی طرح تراشنا ہوتا ہے،ہمارے دفاعی اداروں کا کوئی بھی تربیت یافتہ جوان زندگی کے کسی بھی میدان اورامتحان میں ناکام ونامراد نہیں ہوتا۔افواج پاکستان کیلئے ایک خاندان کی مانند مادروطن کے ساتھ” وفا“اوراس کا”دفاع “کرناایک بیش قیمت اعزاز ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری کی قیادت میں افواج پاکستان کا منظم اورموثر شعبہ اطلاعات ونشریات انتہائی پیشہ ورانہ اورآبرومندانہ انداز سے دشمن ریاست کے زہریلے پروپیگنڈے کوکامیابی سے کاﺅنٹر کرتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری اپنے زبردست استدلال اوراستقلال کے ساتھ پاکستان اورافواج پاکستان کی بھرپوروکالت کرتے ہیں۔آئی ایس پی آر پنجاب کے زیرک اورپروفیشنل سیکٹر کمانڈر بریگیڈئیر محمدآصف بھی اپنے اہم ترین محاذ پرسربلنداورسربکف ہیں،ان کابھی کام بولتا ہے۔ پنجاب کے پروفیشنل ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد عاطف بن اکرم کی پرجوش اورانتھک قیادت میںہماری سرحدوں کے مستعد محافظ جبکہ ہماری بیش قیمت نسلیں منشیات کے زہراورقہرسے بچانیوالے اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب کے ریجنل کمانڈربریگیڈئیر سکندرحیات چوہدری ہماراسرمایہ افتخار ہیں۔دفاعی اداروں کی پاکستانیت ،پیشہ ورانہ مہارت اورفطری دشمن کیخلاف استقامت سے بھرپورمزاحمت اپنی مثال آپ ہے ۔
راقم کے باپ دادا نے قیام پاکستان کے وقت اُس پنجاب سے اِس پنجاب کی طرف انتہائی دشوار ترین ہجرت کی تھی جبکہ دادانے دوران ہجرت جام شہادت نوش کیا تھا،ہمارے ماں باپ کے پاکستان آنے کاراستہ آج بھی قیمتی یادوں سے آراستہ ہے۔مجھے تین چار بارپاکستان اوربھارت کے بارڈرایریامیںجانے کااتفاق ہوا ہے ،راقم نے قصور کے گنڈاسنگھ اورلاہور کے واہگہ جے سی پی پر اپنے رینجرز کی شاندار پریڈز بھی دیکھی ہیں اورانہیں اپنی متعددومنفرد تحریروں کانذرانہ پیش کیاہے۔وہا ں مجموعی طورپر ماحول سنجیدہ بلکہ کشیدہ ہوتا ہے ۔اس مسلسل تناﺅ کی فضا میں اپنا فرض منصبی اداکرنا آسان نہیں بلکہ انتہائی دشوار ہے ،رینجرز کواپنے اعصا ب پرشدید دباﺅسہنا پڑتا ہے ۔ایل اوسی پر دوران ڈیوٹی ہمارے سرفروش” رینجر“کئی طرح کے” ڈینجر“ کامقابلہ کرتے ہیں۔راقم نے 2010ءمیں ”جہاں ڈینجر وہاں رینجر“ کے عنوان سے اپنے ایک کالم میں گنڈا سنگھ جوائنٹ چیک پوسٹ پربجلی کی بندش سمیت چند مسائل کاذکر بھی کیا تھا ،اس وقت کے انتہائی فرض شناس ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد یعقوب خان نے فوری نوٹس لیااوراپنی سنجیدہ اصلاحات سے اُن دشواریوں کاسدباب کیا تھا۔اُن دنوں پنجاب رینجرزکے انتہائی پروفیشنل آفیسر ندیم رضا اپنے محکمے کے ترجمان تھے ،راقم نے آج تک کسی محکمہ میں ایسا مستعداورمتحرک ترجمان نہیں دیکھا جوانتہائی پیشہ ورانہ اوردوستانہ انداز کے ساتھ اپنے محکمے کی کامیابی وکامرانی اورنیک نامی یقینی بنانے کیلئے میڈیاکوصحتمند اورسودمندمعلومات فراہم کرتاہو ۔ڈی ایس آر ندیم رضا کے بعد میجر محمدفاروق فیاض نے بھی پنجاب رینجرز کے ترجمان کی حیثیت سے انمٹ نقش چھوڑے تھے ۔آج بھی پنجاب رینجرز کوندیم رضا سے پروفیشنل،پرجوش اورفعال ترجمان کی اشدضرورت ہے۔
پاکستان اورافواج پاکستان کاپرامن ”چہرہ “عالمی سطح پرمزید روشن کرنے کا”سہرا“ رینجر آفیسر عاصم کے سر پربندھ گیا ہے، امیدواثق ہے ہماری محبوب ریاست ہمارے اس ہردلعزیز قومی ہیرو کواس کے شایان شان اعزازات اورانعامات سے نوازے گی ۔بھارتی فوجی آفیسراوران کی اہلیہ گنڈا سنگھ بارڈر پرشاندارپریڈ کے اختتام اورآنکھوں آنکھوں میں مثبت اشاروں کے نتیجہ میں انتہائی اپنائیت اور ذوق وشوق سے پاک سرزمین پرپورے قدسے کھڑے پنجاب رینجرز کے سمارٹ آفیسرکے ساتھ تصویربنوارہے تھے ،اس پرہمارے آفیسر نے انتہائی حسن ظن اوربڑے پن کے ساتھ بھارتی فوجی آفیسر کوسلیوٹ کیا جس پردوسری طرف سے بھی سلیوٹ کاجواب سلیوٹ سے دیاگیا جویقینا خوش آئند ہے،یوںیہ یادگار” پل“ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان پائیدار” پُل “ بن گیا۔یہ خوبصورت منظر ویڈیو کی صورت میں ایک بھارتی شہری کے سمارٹ فون میںمحفوظ اوربعدازاں دنیا بھر میں وائرل ہوا ۔ راقم نے بھی سلیوٹ والی وائرل ویڈیو بار بار بغور دیکھی اور بے اختیار اپنے وردی پوش اور سرفروش رینجر آفیسر کو سلیوٹ کردیا۔ اس فرزند پاکستان کے انداز میں ایک طرف اعتماد اور دوسری طرف بے پایاں وقار تھا۔ مجھے اس آفیسر کی قسمت اور پنجاب رینجرز کے ساتھ نسبت پربڑا رشک آیا۔ پریڈ کے اختتام پرچہل پہل کے دوران بھارتی فوجی آفیسر کو اس کے منصب کی بنیاد پرسلیوٹ میں پہل کرنیوالے رینجر آفیسرعاصم کودونوں ہمسایہ ملکوں سمیت دنیا جہاں سے سراہاجا رہا ہے، یقینا اعلیٰ ظرف اور وضع دار کردار اس کیفیت کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ رینجرآفیسر نے پاک فوج کے ڈسپلن کامظاہرہ اوراپنے ادارہ پنجاب رینجرز کانام مزیدروشن کیا۔پاکستان کے باوردی جوان کی اس گرمجوشی سے یقینا ہمسایہ ملک میں برف پگھلے گی اوروہ کشمیر سمیت دوسرے تنازعات کے پرامن حل کیلئے مکالمے کی میز پرآئے گا ۔پنجاب رینجرز کے دراز قد جوان نے بتادیا ہم بحیثیت قوم مفاہمت پسند ہیں لیکن اس مثبت”سوچ“ اور”اپروچ“ کو ہماری کمزوری سمجھناہمسایہ ملک کی نادانی ہوگی کیونکہ افواج پاکستان اوربالخصوص ہماری پاک فضائیہ کے شیردل شاہینوں نے10مئی2025ءکووقت ِ” سِحر“ دشمن پراپنی ہیبت کا” سَحر“طاری کردیا تھا ۔ بھارت کی نابوی کیلئے متحرک مودی سرکار کیلئے بہتر ہے وہ آئندہ کسی صورت افواج پاکستان کوللکارنے کی حماقت یاجسارت نہ کرے ورنہ ہمارے شیردل شاہینوں کی شدید مزاحمت کے نتیجہ میں دشمن کو ماضی کے مقابلے میں اس بار زیادہ شدت سے ہزیمت کاسامنا کرناپڑے گا ۔ الحمدللہ ہمارے رینجرز کا اپنے قد، کرداراورمخصوص پریڈ کی مہارت کے معاملے میں بھارت کی بارڈرسکیورٹی فورس (بی ایس ایف)کے جوانوں سے کوئی موازنہ نہیں بنتا۔ پنجاب رینجرز کی پیشہ ورانہ مہارت اور ہیبت کا طوطی بولتا ہے۔ پاکستان کے باوردی محافظ مجھ سمیت پاکستانیوں کے محبوب ہیں۔ ان کے احسانات کا جواب انعامات نہیں صرف پرخلوص احساسات اورصادق جذبات سے دیا جاسکتا ہے۔
جومٹھی بھرگمراہ لوگ کسی روگ کی طرح اس زندہ ضمیر رینجر آفیسر کے سلیوٹ پر اپنے زہریلے اوربدبودارخبث ِ باطن کوباہراُگل رہے ہیں ، انہیں جھنجوڑنا راقم کافرض اورمجھ پرمادروطن کاقرض ہے ۔کون نہیں جانتا دونوں ملکوں کے حکمران اورسیاستدان بھی ”گِلے “دورکرنے کیلئے ایک دوسرے کو”گَلے “لگاتے اورآپس میں ہاتھ ملاتے ہیں ۔ واجپائی نے بحیثیت بھارتی وزیراعظم اپنی لاہور یاترا کیلئے” دوستی بس“ میں سواری پسندکی تھی۔نوازشریف کے دوراقتدارمیںنریندرمودی تو بغیرویزا جاتی امراءلاہور تک آگیا تھا ۔پاکستان اوربھارت کے فنکار وںکادوستانہ بھی اپنی مثال آپ ہے، وہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان دوریاںاورتلخیاں ہوتے ہوئے بھی ایک ساتھ فلموں میںکام کرتے اورناظرین کوہنساتے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ملکوں کے بلے بازوں اورگیندبازوں کی دوستی کو بھی رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن وہ میدان میں اپنے اپنے ملک کاپرچم اٹھاتے اورلہراتے ہیں۔ میں پھر کہتا ہوں مخصوص شتربے مہار سوشل میڈیا پر ریاست اورہمارے قابل فخر ریاستی اداروں کیخلاف شرانگیزی اوردشنام طرازی سے گریز کریں کیونکہ” شہرت“ کی ہوس” شہوت“ سے بدتر ہے لہٰذاءزندگی بھر اپنی اپنی” ماں“ کی طرح ”مادروطن“ کی عزت اور حمیت کو اہمیت دیں۔ عزت کسی حکومت یامنصب کی محتاج نہیں ہوتی یعنی انسان کی عزت میں اقتدار کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ہماری زندگی میں وہ حکمران بھی آئے جو عزت سے ”محروم“ اور زندہ ہوتے ہوئے بھی ”مرحوم“ تھے۔رینجرز آفیسر عاصم نے سودوزیاں کی پرواہ کئے بغیر بھارت کے فوجی آفیسر کی عزت افزائی کی تھی سو اللہ ربّ العزت نے موصوف کی اِس ”ادا“ پر اُسے وہ”عطائ“ کردیاجس کاکوئی شتر بے مہاریوٹیوبر یا شعبدہ بازحکمران تصور بھی نہیں کرسکتا۔رینجرآفیسر عاصم کا صرف قد نہیں بلکہ اس کا کردار بھی بہت بڑا ہے، یہ موصوف نے اپنے سلیوٹ سے بتادیا۔ رینجر آفیسر عاصم کا یادگار، جاندار اور شاندار سلیوٹ درحقیقت پاکستان اور افواج پاکستان کیلئے بینظیر ٹریبیوٹ ہے۔ ہمارے سرفروش محافظ بہت پرجوش اوراعلیٰ ظرف ہیں۔ اس سلیوٹ کی صورت میںعالمی ضمیر کیلئے شاندار” پیغام“ انتہاپسندبھارت کے ہرایک” الزام“ اور” انتقام“ پربھاری ہے ۔