کوئٹہ، اے این پی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس، بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی سنگین قرار

اے این پی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس

ماخذ: آن لائن

کوئٹہ (آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب میں صوبے کی انتہائی تشویشناک سیاسی معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں صوبے کی اہم سیاسی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کے مرکزی و صوبائی رہنماں نے اپنے اپنے وفود کے ہمراہ شرکت کی کانفرنس میں نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل و سابق سینیٹر کبیر محمد شہی جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی سینئر نائب امیر مولوی کمال الدین پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری موسی بلوچ جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے امیر مولانا قادر لونی ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل احمد کوہزاد نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی جنرل سیکرٹری انجینئر ایمل خان ناصر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبدالحکیم ایڈووکیٹ جماعت اسلامی کے سیکرٹری عبد الحمید منصوری اور مرکزی انجمن تاجران کے رہنما رحیم کاکڑ نے شرکت کی۔کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں صوبے کی مجموعی صورتحال کو انتہائی سنگین تشویشناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ صوبہ ایک ایسے ہمہ جہت بحران سے دوچار ہے جس نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے امن و امان کی مسلسل بگڑتی صورت حال دہشت گردی انتہاپسندی مسلح جتھوں کی بھرمار ٹارگٹ کلنگ اغوا برائے تاوان قومی شاہراہوں پر ٹرانسپورٹ اور مسافروں کو درپیش عدم تحفظ قومی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار قبضہ گیری لاپتہ افراد کا مسئلہ بے روزگاری اور معاشی بدحالی نے صوبے کے مستقبل کو سنگین خطرات سے دوچار کردیا ہے اعلامیے میں کہا گیا کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارتی راستوں اور آمدورفت کی بندش نے صوبے کی معیشت کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے سرحدی تجارت سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ مہنگائی گیس و بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پٹرولیم لیوی یوریا کھاد اور ڈائنامائٹ کی بندش سمیت دیگر پابندیوں نے زراعت تجارت صنعت اور روزگار کے مواقع کو شدید متاثر کیا ہے صوبے کے عوام ایک طرف بدامنی اور عدم تحفظ کا شکار ہیں تو دوسری جانب معاشی پابندیوں اور حکومتی بے حسی نے ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کردیا ہےنمشترکہ اعلامیے میں حکومت کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ امن و امان کے قیام قومی وسائل کے دفاع اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی میں حکومتی ناکامی محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ سیاسی و حکومتی بحران کی عکاس ہے صوبے میں حکومتی عملداری قانون کی بالادستی اور عوامی اختیار کے بجائے خوف بے یقینی اور عدم تحفظ کی فضا غالب ہے سیاسی جماعتوں نے واضح کیا کہ عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ کر حکومتی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کسی صورت قابل قبول نہیں کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سنیٹر ایمل ولی خان جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور ملک کی دیگر قومی سیاسی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کردار کشی اور میڈیا ٹرائل پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا سیاسی قیادت کو متنازع بنانے ان کی تضحیک اور منفی مہمات کے ذریعے سیاسی آوازوں کو دبانے کی کوششیں جمہوری اقدار سیاسی رواداری اور آزادی اظہار کے منافی ہیں سیاسی اختلاف کو انتقامی مہم اور کردار کشی میں تبدیل کرنا قابل مذمت ہے آل پارٹیز کانفرنس نے مشترکہ سیاسی و جمہوری جدوجہد کو عملی شکل دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 19 نومبر بروز جمعرات صوبہ بھر میں مکمل شٹر ڈان ہڑتال کی جائے گی جبکہ اسی روز تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے اور مسلط شدہ بدامنی، معاشی استحصال، قومی وسائل کی لوٹ مار اور عوامی حقوق کی پامالی کے خلاف مشترکہ احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 26 نومبر کو جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی دفتر میں آل پارٹیز صوبائی سربراہی اجلاس منعقد ہوگا جس میں صوبے کی مجموعی صورت حال احتجاجی سرگرمیوں اور مشترکہ جدوجہد کا جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا اسی طرح دسمبر کے پہلے ہفتے میں صوبے کے گھمبیر اور حل طلب مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے مرکزی قیادت کو اعتماد میں لینے اور ان کے حل کے لیے مرکزی سیاسی قیادت پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مثر بنانے اور احتجاجی تحریک کو منظم کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کی کوآرڈینیشن کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس میں جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی سینئر نائب امیر مولانا کمال الدین بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری موسی بلوچ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان علی احمد لانگو جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر زاہد اختر بلوچ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ندا سنگر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ڈاکٹر سخی نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری عنایت شاہ ایڈووکیٹ جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے صوبائی امیر قاری مہر اللہ پاکستان تحریک انصاف کوئٹہ ڈویژن کے صدر زین العابدین اور مرکزی انجمن تاجران کے صدر رحیم کاکڑ شامل ہیں آل پارٹیز کانفرنس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے عوام کو درپیش سنگین مسائل کے حل امن و امان کے قیام، قومی وسائل کے تحفظ معاشی سرگرمیوں کی بحالی سیاسی آزادیوں اور بنیادی انسانی و جمہوری حقوق کے دفاع کے لیے تمام سیاسی و جمہوری قوتیں مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گی شرکا نے واضح کیا کہ صوبے کے عوام کے مستقبل وسائل اور حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی عوام کو بدامنی معاشی استحصال اور بے یقینی کے مستقل عذاب میں مبتلا رکھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے صوبے کے مسائل کا حل سنجیدہ سیاسی مکالمے جمہوری جدوجہد قانون کی بالادستی اور عوامی اختیار کے احترام میں مضمر ہے