علی وزیر کی رہائی کا خیر مقدم، کوئٹہ چمن شاہراہ پر مسلح جتھوں کی چیک پوسٹیں ناقابل برداشت ہیں، پشتونخوا میپ

کوئٹہ چمن شاہراہ پشتونخوا میپ

ماخذ: یو این اے

کوئٹہ، چمن (یو این اے)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے پریس ریلیز میں سابق رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بد قسمتی سے آئین، جمہوریت، پارلیمنٹ اور حقیقی وفاقیت کی بات کرنے پر قومی سیاسی جمہوری لوگوں کو قید و بند اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی پشتونخوامیپ روزِ اول سے مذمت کرتی آئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آئینِ پاکستان ہر شخص، جماعت، یا تنظیم کو اجازت دیتا ہے کہ وہ آزادی سے اپنی رائے، پروگرام، سیاسی تنظیم کے فروغ کے لئے آواز بلند کرے اور آئین و قانون کے دائرے کے اندر اپنے نظریات کے لئے مہم چلا سکے لیکن بد قسمتی سے ملک میں آج یہ سب کچھ نایاب یا ممنوع ہو چکا ہے جس کے لئے آواز بلند کرنا ہر مترقی سیاسی جمہوری پارٹی کی ذمہ داری ہے۔آخر میں ایک مرتبہ پھر علی وزیر کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان اور دیگر تمام سیاسی اسیران کو رہا کیا جائے اور ملک میں سیاسی جمہوری روایات اور آئینی و قانونی اقدامات کو فروغ دیا جائے۔ علاوہ ازیں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ضلع چمن نے کوئٹہ-چمن قومی شاہراہ پر جاری بدامنی، بھتہ گیری اور نجی ملیشیا کی جانب سے قائم پرائیویٹ چیک پوسٹوں پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ-چمن شاہراہ جو کہ ایک عالمی اور تجارتی گزرگاہ ہے، اسے مکمل طور پر سماج دشمن، جرائم پیشہ عناصر، خطرناک ملزمان، قاتلوں، ڈاکوﺅں اور اغوا کاروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بھتہ خوری اور لوٹ مار کا سلسلہ گزشتہ کئی عرصے سے بڑی دیدہ دلیر اور ڈھٹائی سے جاری و ساری ہے شاہراہ پر مال بردار ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں سے زبردستی بھتہ وصول کیا جا رہا ہے اور مال کو زبردستی خالی کرایا جا رہا ہے۔پرائیویٹ چیک پوسٹیں قائم ہیں سرکاری اداروں کی موجودگی کے باوجود نجی ملیشیا اور مسلح جتھوں نے جگہ جگہ پرائیویٹ چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں جہاں شریف النفس شہریوں، راہگیروں اور مسافروں کو روکا جاتا ہے۔اسلحہ کی کھلے عام نمائش اور تشدد کے ذریعے شاہراہ یرغمال ہے مسلح افراد سرعام اسلحہ کی نمائش کرتے ہوئے ڈرائیوروں کو زدوکوب، ہراساں، مارپیٹ، تشدد اور غیر انسانی ناروا سلوک کا نشانہ بناتے ہیں اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دیتے ہیں۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ضلع چمن نے کہا کہ اس اہم ترین شاہراہ پر قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ انتظامیہ اور متعلقہ سیکورٹی اداروں کی خاموشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔ بیان کے آخر میں حکومت بلوچستان، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کوئٹہ-چمن شاہراہ سے تمام غیر قانونی پرائیویٹ چیک پوسٹوں کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ بھتہ گیر اور مسلح جتھوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔اگر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی عوام کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔