ماخذ: یو این اے
چمن (یو این اے)چمن کے نواحی علاقے محمود آباد میں موٹر سائیکل سوار ڈاکووں کی فائرنگ سے جمعیت طلبا اسلام کے ضلعی رہنما حافظ احسان اللہ جاں بحق(شہید)ہو گئے۔ واقعے کے خلاف آل پارٹیز اور جمعیت طلبا اسلام کے رہنماں و کارکنوں کی بڑی تعداد نے شہید کی میت کے ہمراہ ڈی سی کمپلیکس کے سامنے شدید احتجاجی دھرنا دیا۔موصولہ تفصیلات کے مطابق حافظ احسان اللہ روزانہ کی طرح آج صبح اپنے گھر سے مدرسے جا رہے تھے کہ راستے میں محمود آباد کے مقام پر مسلح ڈاکوں نے انہیں روک کر لوٹنے کی کوشش کی، اور مزاحمت کرنے پر سفاک ڈاکوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔اس دلخراش واقعے کے خلاف آل پارٹیز، جمعیت علما اسلام کے ضلعی رہنماں اور کارکنوں نے فوری طور پر شدید احتجاج کرتے ہوئے شہید کی میت ڈی سی کمپلیکس کے سامنے رکھ دی اور دھرنا دیا۔ دھرنے کے باعث ڈی سی کمپلیکس کے سامنے ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی، جبکہ مشتعل مظاہرین نے صوبائی حکومت اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا پرزور مطالبہ تھا کہ فائرنگ اور ڈکیتی کی اس لرزہ خیز واردات میں ملوث درندہ صفت ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلی حکام نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے مظاہرین کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے۔ ضلعی انتظامیہ نے مظاہرین کے تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث ڈاکوں کی فوری گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جائیں گے، جبکہ شہید حافظ احسان اللہ کو سرکاری طور پر شہید بھی قرار دیا جائے گا۔انتظار اور مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے پرامن طور پر احتجاج ختم کر دیا۔
