پشاور (ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹک پل پر کیل لگانے کا کیا مطلب ہے، مطلب خیبر پختونخوا کی سرحد جس طرح شروع ہوتی ہے اور پاکستان کا بقیہ حصہ شروع ہوتا ہے وہاں پر کیل لگائے گئے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام یہ سمجھیں کہ خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش ہورہی ہے۔ جس طرح پچھلے ایک مہینے سے یہ بیانیہ بنایا جارہا تھا کہ ہمیں انڈیا سے خطرہ نہیں باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ جس طرح کچھ وزراءکہہ رہے تھے کہ خیبر پختونخوا کے لوگ دہشت گرد ہیں، جنگلی ہیں، تو کیا خیبر پختونخوا کے عوام یہ سمجھیں کہ پاکستان کو توڑنے کی سازش پر باقاعدہ کام شروع ہوگیا ہے، ہم سمجھیں کہ خیبر پختونخوا کی ایڈمنسٹریشن، پولیس پر اعتماد ختم ہوچکا ہے، یہاں پر کسی اور صوبے کی پولیس، کسی اور صوبے کی ایڈمنسٹریشن لانچ ہونے جارہی ہے، پہلے بیانیہ کہ ہمیں انڈیا سے خطرہ نہیں ہے تین صوبوں سے خطرہ ہے، دوسرا کہ خیبر پختونخوا کے لوگ دہشتگرد ہیں، تیسرا کہ خیبر پختونخوا کی حدود جس طرح ختم ہوتی ہے وہاں پر کیلیں ٹھونکی جارہی ہیں، یہ ان کے جعلی نظام پر، کفن پر، ان کے تابوت پر آخری کیل ثابت ہوں گے، کیونکہ پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا، اور ہم بچائیں گے پاکستان کو۔ پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر جن کا تعلق خپیبر پختونخوا سے ہے انہیں میڈیا پر بند کردیا گیا، اس کا ہم کیا مطلب سمجھیں، خیبر پختونخوا کا انفارمیشن منسٹر ان کو میڈیا پر بند کردیا گیا، اس بات کو ہم کیا سمجھیں، مجھے پتا چلا ہے کہ میڈیا کو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو کوریج دینے سے روک دیا گیا ہے، اس بات کو ہم کیا سمجھیں۔ جو غلط پالیسی ریاست پاکستان پر قابض لوگ نافذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جو سازش چل رہی ہے یہ بہت خطرناک ہے۔ خیبر پختونخوا کے منسٹرز کو اغوا کیا جارہا ہے۔ ہمارا لانگ مارچ پرامن ہے ہر صورت ہوگا، چاہے یہ سڑکوں پر کیلیں ٹھونکیں، چاہے سڑکوں پر کنٹینر رکھیں یا چاہیں گولی چلائیں۔
لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، اٹک پل پر لگائی گئی کیلیں ان کے تابوت میں آخری ثابت ہوں گی، سہیل آفریدی
