ریاست مخالف بیانیہ، بلوچستان میں 100 سرکاری ملازمین برطرف، ہزاروں ویب سائٹس بند

ویب سائٹس بند

ماخذ: این این آئی

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری ریاست مخالف بیانیے کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے 16 ہزار 367 سائٹس بند کردی۔ سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے بتایا کہ ریاست مخالف بیانیے کے خلاف محکمہ داخلہ نے اقدامات کیے اور سماجی رابطوں کی میڈیا پر ریاست مخالف بیانیے کے 20 ہزار 117 سائٹس کی نشان دہی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست مخالف بیانیے کے 16 ہزار 367 سائٹس کو بند کیا گیا ہے، یہ سائٹس تمام سماجی رابطوں کی میڈیا پلیٹ فارمز پر تھیں۔ سیکرٹری داخلہ بلوچستان نے بتایا کہ ریاست مخالف بیانیے کی سائٹس کو بند کرنے کی شرح 81.4 فیصد رہی ہے۔ علاوہ ازیں محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے ریاست مخالف بیانیہ چلانے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 100 سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کردیا، برطرف ہونے والوں میں 95 یونیورسٹی اساتذہ بھی شامل ہیں۔ معاون محکمہ داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی کے مطابق برطرف سرکاری ملازمین پاکستان مخالف بیانیہ چلا رہے تھے اور انہوں نے سرکاری حلف کی خلاف ورزی کی۔ ریاست کے خلاف بیانیے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ سرکاری مراعات حاصل کرنے کے باوجود پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا سلسلہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق برطرف کیے گئے 100 ملازمین میں 95 یونیورسٹی ٹیچرز شامل ہیں، جبکہ مزید دو اساتذہ کے خلاف کیسز زیر التوا ہیں۔بابر یوسفزئی کے مطابق محکمہ صحت کے تین ملازمین سمیت مزید پانچ سرکاری ملازمین کو بھی ریاست مخالف بیانیہ چلانے پر ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے۔