زیارت حملہ،آخری فون کال، لاشوں کی واپسی میں مشکلات اور کمک کیوں نہ پہنچ سکی جیسے سوالات

’کوئٹہ(بلوچستان نیوز)اس کے جسم پر گولیوں کے 12 نشان تھے۔ چہرہ تیزاب سے جھلسانے اور شناخت مٹانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ہم نے اُسے پاؤں پر موجود ایک پرانے زخم کے نشان اور کپڑوں سے پہچانا۔‘یہ الفاظ محمد صابر کے ہیں، جن کے بھائی سپاہی محمد آصف بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے۔جولائی کے اوائل میں زیارت میں مانگی ڈیم کی فیز تھری کنسٹرکشن سائٹ پر نامعلوم مسلح افراد نے ایک بڑا حملہ کیا تھا جس میں حکام کے بقول دو ایس ایچ اوز سمیت نو پولیس اہلکار موقع پر مارے گئے تھے جبکہ 21 کو اغوا کیا گیا۔حکام نے بتایا تھا کہ اِن یرغمالی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران شدت پسندوں نے یرغمالیوں کو ہلاک کر کے ان کی لاشیں زرغون غر کے علاقے میں پھینک دی تھیں۔محمد آصف ان 30 پولیس اہلکاروں کے ساتھ جان سے گئے جو اس حملے کا نشانہ بنے۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔چھٹی کے دن بھی ڈیوٹی پر واپس بلا لیا گیا

محمد آصف تین بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے چھوٹے تھے۔ ابھی چند ماہ قبل ہی ان کی منگنی ہوئی تھی اور گھر میں شادی کی تیاریاں بھی جاری تھیں۔محمد آصف کے لیے چھ جولائی کی صبح کسی عام صبح جیسی تھی۔ وہ چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے اور صبح سویرے ہی اپنے بڑے بھائی صابر خان کے ساتھ بیٹھے اپنی ملازمت سے متعلق باتوں میں مصروف تھے۔ کُچھ دیر بعد انھوں نے بڑے بھائی سے موٹر سائیکل لے جانے کی اجازت لی اور کسی کام سے گھر سے نکل گئے۔