سرفراز بگٹی ضلع کوہلو کے سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی معاملات میں مداخلت بند کریں، ترجمان مسلم لیگ ن

سرفراز بگٹی کوہلو مداخلت

ماخذ: آن لائن

کوہلو (آن لائن) ترجمان پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع کوہلو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چند روز قبل رکن صوبائی اسمبلی کوہلو نواب جنگیز خان مری نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ضلع کوہلو کے سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی معاملات میں مسلسل مداخلت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد گزشتہ روز نصیب اللہ مری کی جانب سے پریس کانفرنس کرنا اور بے بنیاد الزامات عائد کرنا محض حقائق سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ بظاہر یہ پریس کانفرنس وزیراعلیٰ بلوچستان کی ایما پر کی گئی، جس میں من گھڑت باتوں اور سیاسی پروپیگنڈے کے ذریعے اصل مسئلے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ترجمان نے کہا کہ سرفراز بگٹی مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ کوہلو کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کر رہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مداخلت نہیں ہو رہی تو پھر کوہلو کے ترقیاتی اور انتظامی فیصلے بیک ڈور، بیکڑ یا وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں کیوں کیے جا رہے ہیں؟ ایک غیر منتخب شخص نصیب اللہ مری محکمہ سپورٹس اور محکمہ جنگلات سمیت مختلف محکموں کے تقرری و تعیناتی کے احکامات کوہلو میں آکر تقسیم کرے تو اسے مداخلت کے سوا کیا نام دیا جائے؟ کیا یہی میرٹ، شفافیت اور اختیارات کی آئینی حدود کا احترام ہے؟ یہ تمام معاملات وزیراعلیٰ کے مداخلت نہ کرنے کے دعو¶ں کی خود نفی کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سرفراز بگٹی کی جانب سے ایف ڈبلیو او جیسے قومی اور معزز ادارے پر تنقید کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کے اہلکار اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر بلوچستان کے دشوار گزار علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جو شخص ایسے اداروں کی خدمات کو متنازع بنانے کی کوشش کرے، وہ کوہلو میں امن، ترقی اور استحکام کی بات کس بنیاد پر کر سکتا ہے؟ کوہلو کے عوام کو نعروں اور پریس کانفرنسوں کے بجائے عملی اقدامات، ترقیاتی کاموں اور امن کی ضرورت ہے۔ترجمان نے نصیب اللہ مری کی سابقہ کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اپنے دور میں انہوں نے کوہلو کی ترقی کے لیے کوئی قابلِ ذکر منصوبہ پیش نہیں کیا۔ عوامی سطح پر یہ شکایات بھی موجود ہیں کہ مبینہ طور پر سرکاری نوکریوں، ترقیاتی اسکیموں اور سرکاری آسامیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ مختلف محکموں میں اقربا پروری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھتے رہے۔ متعدد محکموں کو ذاتی اثرورسوخ کے تحت چلانے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ لہٰذا آج دوسروں پر الزامات لگانے سے پہلے انہیں اپنی سابقہ کارکردگی کا جواب دینا چاہیے۔ترجمان نے مزید کہا کہ حالیہ انتخابات کے بعد نصیب اللہ مری کی جانب سے عوامی مقامات اور چوک چوراہوں پر سکیورٹی فورسز کے خلاف جس قسم کی زبان استعمال کی گئی اور ان کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے مبینہ طور پر نازیبا الفاظ اور گالم گلوچ کا مظاہرہ کیا گیا، وہ انتہائی قابلِ افسوس ہے۔ بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ ایسے میں ان کی قربانیوں کو فراموش کرنا اور ان کے خلاف اس قسم کی زبان استعمال کرنا امن کے دعو¶ں سے مطابقت نہیں رکھتا۔موصوف کے اس طرزِ عمل نے ان کے سیاسی بیانیے اور امن و امان سے متعلق دعو¶ں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جو لوگ ایک طرف امن کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف امن کے قیام کے لیے قربانیاں دینے والے اداروں کے خلاف عوامی مقامات پر نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں، انہیں اپنے طرزِ عمل کی وضاحت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جن عناصر نے ہمیشہ عوامی خدمت اور جمہوری سیاست کے بجائے طاقت اور بندوق کے بیانیے کو فروغ دیا، انہیں عوامی مینڈیٹ اور سیاسی کارکردگی پر لیکچر دینے کا کوئی حق نہیں۔ حالیہ انتخابات میں بھی عوام نے ایسے طرزِ سیاست اور اس کے نتائج کو بخوبی دیکھ لیا ہے۔ عوام اب ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور امن چاہتے ہیں، نہ کہ دھونس، دبا¶ اور سیاسی انتقام کی سیاست۔ترجمان نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے میرٹ اور شفاف بھرتیوں کے دعوے اپنی جگہ، لیکن کوہلو میں حالیہ تقرریوں اور پوسٹوں کی تقسیم کے طریقہ کار پر اٹھنے والے سوالات ان دعو¶ں کی نفی کرتے ہیں۔ اگر تمام بھرتیاں میرٹ پر ہو رہی ہیں تو پھر غیر منتخب سیاسی شخصیات کے ذریعے محکموں کے احکامات اور آسامیوں کی تقسیم کا کیا جواز ہے؟ عوام کو بتایا جائے کہ ان بھرتیوں کا معیار کیا ہے اور ان میں مقامی حقداروں کو کس حد تک میرٹ پر موقع فراہم کیا گیا ہے؟آخر میں ترجمان پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع کوہلو نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کو چاہیے کہ وہ کوہلو کے سیاسی اور انتظامی معاملات میں مداخلت بند کریں، قومی اداروں کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی خدمات کا احترام کریں اور ضلع کے عوام کو سیاسی سرپرستی، اقربا پروری اور بدعنوانی کے الزامات سے پاک شفاف نظام فراہم کریں۔ مسترد نمائندوں کے ذریعے پریس کانفرنسیں کروا کر نہ تو زمینی حقائق تبدیل کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کے سوالات دبائے جا سکتے ہیں۔ کوہلو کے عوام باشعور ہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے حقوق، ترقی اور حقیقی نمائندگی کے معاملات پر جواب دہی کس سے طلب کرنی ہے۔