اشاعتی ڈیسک: روزنامہ بلوچستان نیوز ویب ڈیسک
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے 9 بجے طلب کیا گیا ہے، جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔ اس سے قبل صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں وزیر اعظم کی معاونت نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناءاللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ نے کی۔ ملاقات میں سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے صدر مملکت کی معاونت کی۔ اجلاس میں منگل 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا پولیس کو احتجاج اور مظاہروں سے نمٹنے کیلئے آپریشنل ہدایات جاری کردی گئیں۔ آئی جی خیبر پختونخوا کی جانب سے ضلعی پولیس افسران کو گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہے جن میں ممکنہ مظاہرے کی صورت میں حفاظتی اقدامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ہدایت نامے کے مطابق شر پسند اور ریاست مخالف املاک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، ڈی پی اوز پولیس نفری کی موجودگی کو یقینی بنائیں اور اینٹی رائٹ، اسپیشل اسکواڈ، سادہ کپڑوں میں اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔ جاری ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ املاک، تھانوں، پیٹرول پمپس اور بینکس وغیرہ کی سیکورٹی یقینی بنائی جائے۔ مظاہرے اور غیر قانونی اجتماع کا مسئلہ مذاکرات سے حل کیا جائے، مذاکرات سے مسئلہ حل نہ ہو تو پہلے اینٹی رائٹ اسکواڈ، پھر ہوائی فائرنگ اور پھر ربڑ کی گولیاں استعمال کی جائیں اوراحتجاجی مظاہرین کی مکمل ویڈیو اور نگرانی کی جائے۔ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطہ بہتر بنایا جائے۔
