اشاعتی ڈیسک: روزنامہ بلوچستان نیوز ویب ڈیسک
کوئٹہ (ویب ڈیسک) پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کچھ سال قبل سوشل میڈیا ٹی وی کو اپنے دیے گئے انٹرویو جو دوبارہ وائرل ہورہا ہے میں کہا تھا کہ کہ بلوچستان اسمبلی ملک کی واحد اسمبلی ہے جس کے اراکین راتوں رات پوری کی پوری سیاسی وفاداریاں بدل کر ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام سے سوال کیا کہ آپ کن لوگوں کو اپنا نمائندہ بنا کر ایوان میں بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے، تمام انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے، وہاں پینے کا پانی نہیں ہے، وہاں روزگار نہیں ہے، سیوریج کا نظام نہیں ہے، اسپتال نہیں ہیں، تعلیم نہیں ہے، سڑکیں نہیں ہیں، بجلی نہیں ہے، جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں گیس نہیں ہے، آپ کی معدنیات پر آپ کے وسائل پر آپ کا اختیار نہیں ہے، آپ اپنے حقوق کی رکھوالی کیلئے اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں جن کو اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں جہاں پوری پور ی اسمبلی ایک ہی رات میں ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں چلی جاتی ہے، یعنی پوری اسمبلی، ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا۔ مصطفی کمال نے کہا کہ میں بلوچستان کے لوگوں کو کہتا ہوں کہ کن لوگوں کو تم اپنا ایم پی اے بناتے ہوکہ وہ ایک رات میں پور ی اسمبلی اپنی وفاداری بدل لیتی ہے۔ یہاں کے بلوچ، بلوچستان کے رہنے والے نوجوانوں کو اپنے ووٹوں سے اسمبلیوں میں بھجیں گے تو وہ ایک رات میں اپنی وفاداری نہیں بدلیں گے، دوسرا یہ کہ ہمارا ایم پی اے یا نمائندہ وہاں جاکر نالیوں کے ٹھیکے، سڑکیں بنانے کے ٹھیکے نہیں لے گا، ہمارا ایم پی اے وہاں جاکر قانون سازی کی بات کرے گا، ایسے قانون بنائے گا جس سے اختیارات اور وسائل وزیراعلیٰ ہاﺅس سے نکل کر، وزیروں سے نکل کر بلوچستان کی گلی گلی میں آجائیں گے، بلوچستان کے پہاڑوں پر چلے جائیںگے، ہر یونین کونسل میں چلے جائیں گے اور اس نظام کو دنیا میں کہتے ہیں مقامی حکومتوں کا نظام، جہاں پر ایک علاقے کے یونین کونسل کے یوسی انچارج کو اور اس کے کونسلر کو پینے کے پانی کا اختیار اور اس کے پیسے، اس کے سیوریج کا اختیار ہو اور اس کے پیسے، اس کے ادویہ کا اختیار ہو اور اس کے پیسے، اس کے اسکول کا اختیار ہو اور اس کے پیسے، اس کے سڑکوں کا، پارکوں کا، ان ساری چیزوں کا اختیار اس کے پاس ہو اور اس کے پیسے اس کے پاس ہونا چاہیے، تاکہ ایک عادم آدمی جو کہ سردار تک نہیں پہنچ سکتا، جو ایم پی اے تک نہیں پہنچ سکتا، اس کو یہی مسائل ہیں، اور وہ اپنے ووٹوں سے اپنا کونسلر منتخب کرے اپنی گلی کا، اور اپنے کونسلروں سے کام کروائے۔انہوں نے کہا کہ ہر کوئی کہتا ہے مجھے وزیراعظم بنا دو میں تمہیں پانی دے دوں گا، بھائی وزیراعظم کا کام نہیں ہے پانی دینا، وزیراعظم کا کام نہیں ہے نالی بنانا۔ میں بلوچستان کے لوگوں کو کہتا ہوں ہمیں حکمران بناﺅ ہم تمہیں حکمران بنا دیں گے، میں عوام کی دہلیز پر حکمرانی لے کر آنا چاہتا ہوں۔
