خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو ملک کا ہر چوراہا بند کردیں گے، محمود خان اچکزئی

محمود خان اچکزئی

ماخذ: آن لائن

ژوب (آن لائن) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان خارجی دشمنوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اندرونی حالات کے باعث مشکل صورتحال سے دوچار ہے، ملک کو ٹوٹنے اور جوڑنے کے دوراہے پر کھڑا کردیا گیا ہے، تمام سیاسی جماعتیں آئین کی بالادستی پر متفق ہوں، سیاسی بحران کا حل مذاکرات اور آئین کی بالادستی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسئلے کا حل چاہتی ہے تو عمران خان سے ملاقات کرانا ہوگی، عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے ژوب میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام شہداءسات اور گیارہ اکتوبر کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا جلسہ سے نواب ایاز جوگیزئی عبد الرحیم زیارتوال طالع مند خان قطب الدین شیرانی اور جمال مندوخیل نے بھی خطاب کیا ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد مذاکرات ختم نہیں ہوں گے بلکہ مسائل کے حل تک مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ضمانت دیتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد تمام مسائل کے حل تک مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔ عمران خان جو کہیں گے، ہم وہی بات آگے پہنچائیں گے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کو توڑنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ نہیں ٹوٹے، عمران خان کو توڑنے کی کوشش ایک مجرمانہ فعل ہے جو ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہباز شریف اور اسٹیبلشمنٹ مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو عمران خان سے ملاقات ضروری ہے انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے متحد ہونا ہوگا، پارلیمنٹ کو بااختیار اور آئین کو مقدم ہونا چاہیے، پشتون قوم کو اپنے حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔ ملک میں برابری اور انصاف پر مبنی نظام چاہتے ہیں، سیاسی کارکنوں اور عوام کو جمہوری جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، آئین کی بالادستی کے بغیر ملک میں استحکام ممکن نہیں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو ملک کا ہر چوراہا بند کردیں گے، گورنر راج کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہباز حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کے معاملے پر وزیراعظم یا اسپیکر کے دفتر میں ملاقات نہیں ہوگی، تاہم اہم تقرری کے معاملے پر نواز شریف کے مری والے گھر میں بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں۔نہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔ محمود خان اچکزئی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں آئین کی بالادستی، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔