ماخذ: این این آئی
کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبد الواسع نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اتنی معافیاں مانگ لی ہیں کہ اب معافیاں بھی بدنام ہوگئی ہیں۔ سینیٹر شکور غبیزئی اور رکن بلوچستان اسمبلی حاجی زابد ریکی کے نام ای سی ایل میں ڈالے جاتے ہیں، پھر حکومت کی جانب سے معذرت کی جاتی ہے، یہ طرز عمل سمجھ سے بالاتر ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد الواسع نے کہا کہ بلوچستان حکومت اور وزیراعلیٰ یا تو بے اختیار ہیں یا پھر فیصلے قسطوں میں کرتے ہیں۔ جن افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اگر ان کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا جائے گا تو محض معافی مانگنے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر وزیراعلیٰ نے معذرت کی تھی، تاہم اب تک مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت نے واضح پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا۔مولانا عبد الواسع نے معدنیات سے متعلق قانون کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کو دھوکہ دیا، بعد ازاں بل واپس لینے کا اعلان کیا، مگر مسئلہ تاحال حل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے حوالے سے اپوزیشن اور سیاسی جماعتوں نے اتفاقِ رائے سے ایک ڈرافٹ تیار کرکے جمع کرایا تھا، لیکن معاملات اب بھی جوں کے توں ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مدارس اور معدنیات ایکٹ کے معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو جمعیت علمائے اسلام دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔صوبائی امیر جے یو آئی نے بلوچستان میں مبینہ طور پر نجی ملیشیا کی موجودگی پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ”پرائیویٹ ملیشیا“ کو واپس بھیجا جائے۔مولانا عبد الواسع نے کہا کہ ملک کے اصل مالک عوام اور سیاست دان ہیں، حکمران نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 17 نومبر سے بلوچستان کا دورہ شروع کیا جائے گا اور جمعیت علمائے اسلام عوام کے پاس جائے گی۔
