خضدار (بلوچستان نیوز) بلوچستان حکومت کے ساتھ فرینڈلی اپوزیشن اپنے فنڈز بڑھانے کے خاطر چپ کا روزہ رکھاہے بلوچستان میں بدامنی انتہا کو پہنچاہے عوام کے حقوق اور دیگرمسائل پر کوئی احتجاج نہیں ہورہی جس سے لوگوں میں مویوسی پھیل رہی ہے۔ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور ملک بھر میں آسمان سے باتیں کرنے والی مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی نے خضدار میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی بلوچستان کو امن دو تحریک کے سلسلے میں نکالی گئی اور اس کا حکم جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور ایم این اے گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے دیا تھا ریلی کا آغاز جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن قادر آباد خضدار سے ہوا کارکنان بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے نعرے لگاتے ہوئے شہر کے مختلف راستوں سے گزرے ریلی خضدار پریس کلب رجسٹرڈ کے سامنے پہنچ کر ایک بڑے عوامی جلسے کی شکل اختیار کر گئی جلسے میں کارکنوں اورلوگوں کی کثیر تعداد شریک ہوئے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی خضدار مولانا عبیداللہ ساسولی ودیگرمقررین نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہری اپنے گھروں اور کاروباروں میں غیر محفوظ محسوس کررہا ہے حکومت صوبے میں قیام امن کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرےمقررین نے مہنگائی کو بھی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا انہوں نے کہا کہ آٹا، چینی، گھی اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں نے غریب کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا ہےانہوں نے کہاکہ تنخواہیں وہیں کی وہیں ہیں لیکن مہنگائی نے ہر گھر کا بجٹ تباہ کر دیا ہے حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے مقررین نے جماعت اسلامی کہاکہ جماعت اسلامی ہر پلیٹ فارم پر مظلوم عوام کی آواز اٹھاتی رہے گی جب تک بدامنی کا خاتمہ اور مہنگائی میں کمی نہیں ہوتی ریلی کے آخر میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر بلوچستان میں امن قائم کرے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے اور ریلی شرکا نے پرامن طریقے سے ریلی ختم کی اور عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
صوبے میں بدامنی پر فرینڈلی اپوزیشن خاموش ہے، خضدار میں جماعت اسلامی کی بلوچستان کو امن دو ریلی
