کوئٹہ (ویب ڈیسک) تیسری بلوچستان ہیلتھ کانفرنس سے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں صحت کے نظام کی بہتری کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ماضی میں بلوچستان میں صحت کی سہولیات کا شدید فقدان تھا۔ گزشتہ 18 ماہ میں صحت کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی، بلوچستان آج ہیلتھ سسٹم میں بہتری کی جانب گامزن ہے۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے مزید کہا کہ ہیلتھ سسٹم کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ ادویات کی فراہمی کو ٹریک کیا جا رہا ہے تاکہ وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جاسکے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت مہنگی ادویات بھی مفت فراہم کی جارہی ہیں۔ تمام اضلاع میں ڈائلیسز کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ ہارٹ ایمرجنسی کے مریضوں کو ضلعی سطح پر علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ سول اسپتال کوئٹہ سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں کی اپ گریڈیشن جاری ہے۔ عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ غفلت یا بروقت علاج نہ ملنے سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ غفلت برتنے والے متعلقہ افسران اور عملے کیخلاف سخت کارروائی ہوگی۔ ڈیوٹی سے غیر حاضر ڈاکٹرز کیخلاف بیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ پولیو سمیت دیگر بیماریوں کے خاتمے کے لیے کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔ بلوچستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم ملک کا بہترین ہیلتھ سسٹم ہوسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت ایم آر آئی سمیت جدید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
بلوچستان میں صحت کا شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہے، ڈیوٹی سے غیر حاضر ڈاکٹروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی، وزیر صحت
