کراچی (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 27-2026 کا 36 ارب روپے سے زائد خسارے کا بجٹ پیش کر دیا۔ سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا، سرکاری ملازمین کے ایڈہاک ریلیف الاﺅنس 2022ءاور 2025ءضم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا، سندھ میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کردی گئی۔ سندھ حکومت نے نئے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں کوئی نئی اسکیم شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا، غیر ترقیاتی بجٹ کے لیے 2 ہزار 560 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی۔ تعلیم کے شعبے کےلئے 601 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کردیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے بھی عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فائننشل سینٹر بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ فائننشل سینٹر انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا سندھ نے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت قومی استحکام کیلئے 260 ارب روپے کے انتظامات پر اتفاق کیا، 260 ارب کی قومی معاونت کے باوجود سندھ نے آئینی حقوق اور ترقیاتی ترجیحات کا تحفظ یقینی بنایا، سندھ نے قومی مفاد میں کردار ادا کیا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا، سندھ کے عوام نے ہمیشہ ذمہ دار وفاقی اکائی ہونے کا ثبوت دیا۔ سندھ میں متوسط طبقے کیلئے رعایتی سولر فنانسنگ پروگرام متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 18 ارب روپے کی لاگت، 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کیے جائیں گے، غریب گھرانوں کو مفت سولر سسٹمز فراہم کرچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے عالمی سرمایہ کاری کیلئے سندھ گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔ سندھ میں کچرے سے ایندھن، تجارتی مصنوعات بنانے کا ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا۔ سندھ حکومت نے چھوٹے کسانوں کیلئے خصوصی قانون سازی کا فیصلہ کیا، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہاریوں کو مشینری، مالیات، انشورنس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے گی، صحت کے شعبے میں این آئی سی وی ڈی، ایس آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی اور جے پی ایم سی کی خدمات میں توسیع کی گئی، 1123 ٹیلی طبیب سروس اور 1122 ایمبولینس نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنایا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 60.7 ارب روپے لاگت سے تعمیر شاہراہِ بھٹو عوام کےلئے بڑی سہولت ہے۔ وزیراعلیٰ نے کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنائے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیٹی بندر منصوبہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہوگا، کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے، کراچی کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ڈیجیٹل سندھ وژن کے تحت گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر اور اے آئی اکانومی کی بنیاد رکھی جارہی ہے، عالمی معیار کے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری لائی جائے گی۔
سندھ کا 36 ارب روپے سے زائد خسارے کا بجٹ، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان
