ایران اسرائیل و امریکہ جنگ کے اثرات ہماری قومی و انفرادی معیشت پر کھل کھلا کر ظاہر ہونے لگے ہیں۔ مہنگائی تو پہلے ہی زیادہ تھی۔ صنعت و تجارت کی صورتحال بھی غیر تسلی بخش تھی۔ قدر زر میں کمی کے باوجود استحکام ضرور تھا، بیروزگاری خوب تھی۔ لوگوں میں بے اطمینانی پائی جاتی تھی۔ شرح سود میں بتدریج بہتری آرہی تھی کہ اچانک جنگ شروع ہو گئی۔ بس پھر کیا تھا معاملات ایک بار پھر بگاڑ کی طرف چلنا شروع ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے معاشی معاملات میں عدم استحکام نے معاشرتی بے اطمینانی میں اضافہ کرنا شروع کر دیا۔ سرکاری بزرجمہروں نے ٹیکس وصولیوں میں کمی کو پورا کرنے کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں و ٹیکسوں میں چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاﺅ نے یہاں قیمتوں میں ردوبدل یقینی بنا دیا تھا، اس لئے قیمتوں میں اوپری طرف تبدیلی یقینی ہو گئی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جنگ کے آغاز سے قبل پاکستان 300 ملین ڈالر فی ہفتہ تیل کی خریداری پر خرچ کر رہا تھا۔ جنگ کے بعد یہ خرچ 800 ملین فی ہفتہ ہو چکا ہے یعنی پاکستان کا پٹرولیم مصنوعات پر سالانہ 14 ارب 40 کروڑ ڈالر خرچ ہو رہا تھا جو اب بڑھ کر 3 ارب 20 کروڑ روپے ماہانہ ہو چکا ہے۔ وزیراعظم بنیادی طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا جواز پیش کر رہے تھے اور درست کہہ رہے تھے ہمارے درآمدی تیل کا بل تین گنا ہوا چاہتا ہے، اس لئے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ درست کہہ رہے ہیں دوسری طرف شرح سود میں اضافہ ظاہر کر رہا ہے کہ معاملات معیشت میں پیدا کردہ تھوڑا بہت ٹھہراﺅ ایک بار پھر الٹی سمت میں چل نکلا ہے۔ شرح سود میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کی علامت ہے، اس سے سرمایہ کاری میں کمی واقع ہو گی۔ معاشی نمو کی رفتار گھٹے گی، بیروزگاری میں اضافہ ہو گا۔ بحیثیت مجموعی معیشت میں گڑ بڑ ہو گی۔ ویسے پہلے کونسی دودھ شہد کی نہریں بہنے جا رہی تھیں۔ معاشی معاملات بس ایسے ہی تھے ہاں ایک بات ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاشی ابتری کی رفتار کم ہو رہی تھی۔ معاشی اشاریے استحکام کا منظر پیش کرنے لگے تھے۔ دوسری طرف سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل ( SIFC) جو 2025ءمیں بیرون ممالک سے سرمایہ کاری لانے اور ملک میں معیشت کو بڑھوتی دینے کے لئے بڑے دعوﺅں سے قائم کی گئی تھی، وہ کسی قسم کی بہتری لانے میں شاید کامیاب نہیں ہوئی۔ شاید کیا فی الاصل ملک میں فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں کسی قسم کی بڑھوتی نہیں دیکھی گئی۔ SIFC کے اہداف میں زرعی اور لائیوسٹاک، آئی اینڈ ٹیلی کام، مائنیز اینڈ منرلز، توانائی (پٹرولیم و پاور) کے ساتھ صنعت، سیاحت اور نجکاری جیسے سیکٹرز میں سرمایہ کاری کے ذریعے بہتری لانا شامل تھے۔ اہداف مناسب وقت کی ضرورت اور ہماری قومی معاشی و صنعتی ضروریات کے مطابق تھے۔ حکومت نے اس کی تشہیر بھی خوب کی۔ ہمارے لوکل سرمایہ کاروں نے کونسل کو اہداف کے حصول کے لئے فعال بنانے کے لئے فوج پراعتماد کا اظہار کیا۔ ہماری فوج کو اس کی انتظامی معاملات میں شامل کر لیا گیا پھر ہم نے دیکھا کہ ہمارے آرمی چیف (جواب فیلڈ مارشل بن چکے ہیں) وزیراعظم کے ساتھ بیٹھ کر کونسل کے اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے ابتداً کچھ معاملات آگے بڑھے زمین الاٹ بھی ہوئیں۔ چھوٹے موٹے پراجیکٹس پر سرمایہ کاری ہوئی بھی لیکن شوروغوغا زیادہ ہوا عملاً چیزیں اس طرح آگے نہیں بڑھیں جس طرح سوچا گیا تھا۔ پاکستان بیرون سرمایہ کاری تو دور کی بات ہے۔ اندرون ملک سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پورا نہیں اتر پا رہا ہے۔ شعبہ توانائی کی جو صورت حال ہے، سول بیوروکریسی کی جو نالائقیاں اور بوالعجبیاںہیں۔ وہ سرمایہ کار کو یہاں آنے سے روکتی رہی ہیں۔ سیاسی عدم استحکام بھی ایک اہم فیکٹر ہے۔ بلند شرح سود، ہنر مند افراد کی عدم دستیابی جیسے عوامل بھی سدراہ ہیں۔ عمران خان کی 44 ماہ کی حکومت نے پاکستانی معیشت کے ساتھ جو سلوک کیا تھا، موجودہ حکمران اس کے منفی اثرات سے معیشت کو ابھی تک باہر نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ وزیراعظم پاکستان کے بقول ایران امریکہ جنگ سے ہماری دو سالہ کاوشوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بات صاف ظاہر ہے کہ معاشی اشاریے ایک بار پھر منفی سمت میں چلنا شروع ہو چکے ہیں۔ عالمی سطح پر جنگی اثرات نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی میں زلزلے نے عالمی معیشت کو الٹ پلٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ عالمی معیشت روس، یوکرین جنگ کے منفی اثرات ہی برداشت کر رہی تھی کہ اس پر ایران امریکہ جنگ کے گہرے بادل چھا گئے ہیں۔ اس جنگ نے کچھ ایسی شکل اختیار کر لی ہے کہ اسے بغیر میزائل ڈرون اور بم چلائے بھی جاری رکھا جا سکتا ہے، اس طرح اس کی ہلاکت خیزی بھی کم نہیں ہو گی۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ذریعے ایران نے اپنی قوت کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث تیل کی عالمی منڈی میں جاری ہلاکت خیزی میں اضافہ ہوا۔ امریکہ نے اس پالیسی کو اپناتے ہوئے ہرمز کی ناکہ بندی کر کے معاملات کی سنگینی بڑھا دی
ہے۔ امریکہ نے بھی کچھ فائر نہیں کیا لیکن اپنی قوت کا اظہار کر دیا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اب ایران ہرمز کھولنے کے لئے تیار ہے لیکن امریکہ ناکہ بندی اٹھانے کے لئے تیار نہیں۔ اس جنگ نے عجیب صورت اختیار کر لی ہے، جس کے زیراثر عالمی معیشت میں ہلچل ہے۔ ہماری قومی معیشت پہلے ہی مشکلات کا شکار تھی۔ حالیہ جنگ کے منفی اثرات نے ہماری معیشت کی رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے اس حقیقت کا اظہار بھی کیا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہماری معیشت کے دیرینہ مسائل بشمول عالمی قرضوںکا جان لیوا بوجھ، نجی بجلی گھروں IPPs کی غیر منصفانہ ادائیگیاں، بجلی، گیس و پٹرولیم کی ترسیل و تقسیم کا فرسودہ نظام اور اس کے نتیجے میں بلوںکی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نے عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ حکمرانوں کے پاس ایسے مسائل کے حل کے لئے کوئی جامع منصوبہ سازی نہیں ہے۔ کوئی سوچ نہیں ہے۔ کوئی اپروچ نہیں ہے۔ نظام کی بنیادی تبدیلیوں کے بغیر مثبت نتائج کی توقع رکھنا عبث ہے اور قوم نظام کی تبدیلی کو عمران خان کی صورت میں بھگت چکی ہے، اس لئے اب اس سے یعنی نظام کی تبدیلی سے بھی باز آگئی ہے۔ اب صرف ناامیدی ہی ناامیدی ہے۔
خلیج جنگ کے معاشی اثرات
