28اپریل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلے پر کچھ لوگوں نے جس طرح کے منفی بیانات دیئے تو اس سے تو لگتا تھا کہ خدا نخواستہ ان ججز کے ساتھ حکومت نے غیر آئینی حرکت کے ذریعے کوئی بہت زیادہ زیادتی کی ہے ۔ پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا نے ایک عجیب وتیرہ اپنا رکھا ہے کہ جتنی منفی خبریں ہیں انہیں چن چن کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خبریں حقیقت پر مبنی ہوں ۔ ان کا مقصد صرف انارکی اور انتشار کا ماحول پیدا کرنا ہے اور اس کے لئے پیمانہ سچ نہیں ہے بلکہ پیمانہ حکومت مخالف بیانیہ کو تقویت دینا ہے چاہے اس کے لئے کتنا ہی جھوٹ کیوں نہ بولنا پڑے ۔ مثلاً حکومت نے تمام سولر پینل رکھنے والے صارفین پر لائسنس لینے کی شرط رکھی تھی تو اس خبر کو مرچ مسالے لگا کر میڈیا پر وائرل کیا گیا لیکن اس کے بعد جب حکومت نے سولر پینل کے چھوٹے صارفین پر یعنی 25KVAتک لائسنس لینے کی پابندی ہٹا دی تو یہ خبر ان کے سوشل میڈیا پر کہیں نظر نہیں آئی ۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری سمیت پوری دنیا ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے لیکن تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اسرائیل کے حمایت یافتہ تجزیہ کاروں کے ٹویٹر اکاو¿نٹ سے ثالثی کے حوالے سے منفی خبریں اپ لوڈ کر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے خود اپنے جو یو ٹیوبر ہیں وہ بھی انتہائی گھناﺅنے انداز میں اس موضوع پر بات کر کے ہمیشہ پاکستان کی تحقیر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لیکن جسے خدا عزت دے اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔بات اسلام آباد کے ججز کے تبادلوں سے شروع ہوئی تھی تو سوال یہ ہے کہ حکومت نے کیا ان کے تبادلے غیر آئینی طریقے سے کئے ہیں تو جواب ہے کہ بالکل نہیں لیکن ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس آئینی طریقے کے لئے حکومت نے جو27ویں آئینی ترمیم کی تھی در حقیقت وہ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لئے تھی ۔ یہ جو عدلیہ کو کنٹرول کرنے کا واویلا ہے اصل میں یہ چور مچائے شور کے مترادف ہے ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ملک کے تین باررہنے والے وزیر اعظم کو ”سیسلین مافیا “کہا گیا ۔ تھوڑی دیر کے لئے ہم یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ میاں نواز شریف ان کی نظر میں مجرم ہی ہوں گے لیکن کیا اس طرح کے ریمارکس ججز کے وقار کے منافی نہیں ۔ حنیف عباسی کو کورٹ کے احاطہ سے گرفتا کیا گیا لیکن عمران خان کے لئے قانون بدل گیا ۔ ہم یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ عمران خان کچھ ججز کی نظر میں معصوم ہی ہوں گے لیکن کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ کھلتا کسی پہ کیوں، میرے دل کا معاملہشعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے مشہور زمانہ ”گڈ ٹو سی یو“ کے ریمارکس کسے یاد نہیں، شاعر سے معذرت کے ساتھ شعر کے صرف چند الفاظ بدل دیں تو جس نام نہاد آزاد عدلیہ کے ججز کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان کی حقیقت سامنے آ جائے گی۔کھلتا کسی پہ کیوں ، ان کے دل کا معاملہججوں کے ریمارکس نے بے نقاب کیا انہیںجس عدلیہ کے متعلق آزاد اور غیر جانبدار ہونے کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے وہ کتنے آزاد اور غیر جانبدار تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آصف علی زرداری نے بطور ایک منتخب صدر پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے انتہائی متنازع مقدمہ قتل کے متعلق 2 اپریل 2011 کو ایک صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا۔ 13سال تک اس نام نہاد آزاد عدلیہ کے کسی جج کو جرا¿ت تک نہیں ہوئی کہ اس ریفرنس پر کوئی فیصلہ کر سکیں لیکن پھر ایک چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آیا جس نے فائلوں کے نیچے دبے اس ریفرنس کو نکالا اور یہ جرا¿ت کی کہ 45سال بعد 9ججز کا لارجر بینچ بنا کر یہ فیصلہ دیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے متعلق 4ججز کا فیصلہ غلط تھا ۔ اب فیصلہ کرنا قارئین کا کام ہے کہ کون آزاد اور کون غیر جانبدار تھا لیکن فیصلہ کرنے سے پہلے اس وقت ان ججز کے اہل خانہ کی آڈیو لیکس کو بھی ذہن میں ایک لمحہ کے لئے یاد ضرور کر لیجیے گا ۔ٹیریان کے حوالے سے اسلام آباد کے ہائیکورٹ میں ایک کیس دائر ہوا تو اس آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ نے اس کیس کو نا قابل سماعت قرار دے دیا ۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر اس عدلیہ کو ہم آزاد اور غیر جانبدار تسلیم کر لیں تو پھر امریکہ جیسے ملک کی عدلیہ کو غلام اور جانبدار عدلیہ ماننا پڑے گا کہ جس نے اسی ٹیریان کے کیس کو صرف سنا ہی نہیں بلکہ اس پر اپنا فیصلہ بھی سنایا تھا لیکن اس کے باوجود بھی شدید اصرار ہے کہ ہم جو بات کہیں چاہے وہ سچ ہو یا جھوٹ اسے سچ تسلیم کریں لیکن اب چونکہ وہ عدلیہ نہیں ہے کہ جو چند منٹوں میں تھوک کے حساب سے ضمانتیں منظور کرتی تھی اور مستقبل کے ان کیسز کی بھی ضمانتیں منظور ہو جاتی تھیں کہ جو ابھی دائر بھی نہیں ہوتے تھے۔ 27 ویں آئینی ترمیم ایک تو میثاق جمہوریت کا حصہ تھی اور اس کے ذریعے کچھ لوگوں نے جس طرح عدلیہ کو یر غمال بنایا ہوا تھا اسے آزاد عدلیہ میں تبدیل کیا گیا ۔ باقی اس حوالے سے جو واویلا کر رہے ہیں ان کی حالت اس شعر کے مترادف ہے کہخرد کا نام جنوں پڑ گیا ، جنوں کا خردجو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
ججز کا تبادلہ
