ماخذ: این این آئی
قلعہ سیف اللہ ( این این آئی) جنوبی پشتونخوا کوئٹہ کے سہ روزہ پشتون قوم اور عوام کے منعقدہ جرگہ کے تسلسل میں تمام اضلاع میں مشاورتی جرگوں کا انعقاد جاری ہے ۔ اور اس سلسلے میںپشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی کے زیر صدارت ضلع قلعہ سیف اللہ کا پروقار مشاورتی جرگہ منعقد ہوا ۔ مشاورتی جرگہ نے اپنے کارہندہ جرگہ منتخب کیا اور کارہندہ جرگہ نے ضلع قلعہ سیف اللہ کے ایگزیکٹیوکونسل کے تقررات کے لیے نواب ایاز خان جوگیزئی کو مکمل اختیار دیا۔ جرگہ میں سینکڑوں کی تعداد میں پشتون سفید ریش، سرداروں ،ملکان، علماءکرام ،سیاسی اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ جرگہ سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی ،مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال ، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان ، ضلع قلعہ سیف اللہ کے سیکرٹری حاجی دارا خان جوگیزئی نے خطاب کیا ۔ جرگہ میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری عبدالحق عبدال، ڈسٹرکٹ ڈپٹی چیئرمین منظور خان، ڈپٹی سیکرٹری نعمت اللہ کاکڑ اور وڑانگہ لونی نے شرکت کی ۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے عدلیہ اور میڈیا کی آزادی پائمالی کے بعد عوام کے درمیان رنجشوں کا تصفیہ کے لیے پشتون اعلی روایات کے تحت جرگہ نے کردار ادا کرنا ہوگا ۔امن امان کی صورتحال روز بروز بگڑتی جا رہی ہے۔کوئٹہ کراچی، کوئٹہ سکھر، کوئٹہ تفتان ، کوئٹہ ڈیرہ غازی خان ، کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر اضلاع کے اندر شاہراہوں پر امن و امان حکومت کی ذمہ داری ہے اور جرگہ حکومت کو امن امان قائم کرنے پر مجبور کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ آج بجلی، گیس اور پینے کا صاف پانی عوام کو مہیا نہیں ۔پٹرول ساری دنیا میں سب سے مہنگا ملک پاکستان مل رہاہے ۔پانی کی نایابی کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور حکومت عوام کی اس ذمہ داروں سے مبراء نہیں۔ پشتون وطن کے معدنی خزانوں پر سازش اور بدامنی کے ذریعے قبضے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ایک منصوبے کے تحت سرکاری پراکسیز کے ذریعے مکمل بدامنی، دہشت گردی جاری ہے ۔پشتون اضلا ع میں پولیس کے تھا نے ان کے حوالے کیے گئے اور خوف وہراس کے ماحول میں ہمارے وطن کے معدنی خزانے قبضہ کرنے اور لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آج چور، ڈاکو ،رشوت خور، کرپٹ کو بہترین پاکستانی اور عوام کے امن ،حقوق کی بات کرنے والے غدار ٹھہراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں عوام کو بجلی گیس پینے کا صاف پانی مہیا نہیں ۔تعلیم ،صحت اور علاج ناپید ہو چکا ہے ۔صوبے میں پانی سنگین صورتحال میں پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں ،انتظامیہ کو مفلوج بنا دیا گیا ہے، سویلین اتھارٹی ختم کر دی گئی ہے، تمام ادارے اور محکمے مفلوج کیے گئے ہیں۔نہوں نے تنگہ مسے زئی ضلع قلعہ عبداللہ خان کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جرگہ مغوی حیدر کاکڑ کی بازیابی، شہدا حنفیا کاکڑ ،ولی کاکڑ عرف ولو کے قاتلوں کی گرفتاری، منشیات کے خاتمے ،جنگل پیرعلیزئی میں مجرموں، سماج دشمن عناصر سے پاک کرنے کی مکمل مطالبے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے جرگہ شرکاءسے کہا کہ صوبے کی بدامنی ، بدانتظامی اورپشتونوں کی مسلسل زندگی کے تمام شعبوں میں نظر اندازی پر جو بھی لائحہ عمل طے ہوگا ،ہر ضلع کا جرگہ اسے عملی جامع پہنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ آخر میں جرگے کے شرکاءکا شکریہ ادا کیا گیا اور اور جرگہ منتظمین کو داد تحسین پیش کی اور اختتام پر دعا کی گئی۔
