ماخذ: این این آئی
ماسکو(این این آئی) پاکستان اور روس کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے، دونوں ممالک نے مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، پیشہ ورانہ تربیت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں و تحقیقی اداروں کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے ڈیجیٹل تعاون کو ٹھوس اور دیرپا شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی نوجوان اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ روس کی تکنیکی مہارت دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور روس کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے مشترکہ ویبینار سیریز کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، سفارتی نمائندوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئی ٹی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کے آغاز، سرمایہ کاری کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیجیٹل مارکیٹ تک رسائی اور پیشہ ورانہ تربیت کے مختلف پہلوو¿ں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹیکنالوجی توانائی، صنعت، سلامتی اور ترقی کے تمام شعبوں میں بنیادی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان اڑان پاکستان وڑن کے تحت 2035 تک اپنی معیشت کا حجم ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے، جس کے حصول میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، اختراع اور ہنرمند افرادی قوت کلیدی کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان اور تعلیم یافتہ افرادی قوت جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد ہو چکا ہے، جبکہ دونوں ممالک عالمی ادارہ برائے مصنوعی ذہانت کے بانی ارکان میں شامل ہیں، جو اس شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتا ہے۔احسن اقبال نے پاکستان اور روس کے درمیان اردو اور روسی زبانوں کی تعلیم و ترویج کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے عوام، ماہرین اور اداروں کے درمیان روابط کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔اس موقع پر روس کی نائب وزیر بیلا چرکیسووا نے پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ روسی تکنیکی مہارت اور پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت باہمی تعاون کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے وڑن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان محض ڈیجیٹل معیشت نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل پاکستان تشکیل دینے کی جانب بڑھ رہا ہے۔پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا مینجمنٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے مشترکہ منصوبوں کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم شہباز شریف کے متوقع دورہ روس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو نئی تحریک ملے گی۔ انہوں نے پاکستانی اور روسی ٹیکنالوجی کمپنیوں، تحقیقی اداروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اجلاس میں شریک ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کو محض پالیسی سطح کی بات چیت تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ دونوں ممالک مشترکہ صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔اجلاس کے شرکاءنے اس امر پر اتفاق کیا کہ آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا مینجمنٹ، جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تربیت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کے ذریعے پاک روس تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کی کمپنیوں، ماہرین اور تحقیقی اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل تعاون کو ٹھوس، مو¿ثر اور دیرپا شراکت داری میں تبدیل کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔
