ماخذ: این این آئی
کوئٹہ (این این آئی) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر کی کال پر یکم اور 2 نومبر کو بلوچستان بھر میں ڈاکٹروں نے مکمل اور انتہائی کامیاب ہڑتال کی پیر کوہڑتال کا دوسرا روز تھا پی ایم اے بلوچستان نے مذکز کے احکامات پر بھرپور عمل کیا۔ دونوں روز صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں صبح 9 سے 10 بجے تک علامتی طور پر او پی ڈیز بند رہیں جبکہ نجی اسپتالوں اور کلینکس میں تمام الیکٹو سروسز معطل رہیں صوبے بھر کے ڈاکٹروں نے مثالی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جس پر پی ایم اے بلوچستان تمام ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتی ہے۔پی ایم اے بلوچستان کے مطابق مریضوں کو تکلیف سے بچانے کے لیے ہڑتال کو فی الحال صرف دو دن تک محدود رکھا گیا تاہم اگر حکومت اپنے فیصلوں سے باز نہ آئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔پی ایم اے بلوچستان، پی ایم اے سینٹر کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر غفور شورو پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے ایک سینئر ڈاکٹر اور ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم کے مرکزی رہنما پر حملہ نہایت افسوسناک اور قابلِ تشویش ہے۔ اس واقعے پر بلوچستان کی پوری ڈاکٹر برادری گہرے دکھ اور غم و غصے میں ہے اور ہم اس مشکل گھڑی میں ڈاکٹر غفور شورو کے ساتھ کھڑے ہیں۔ترجمان پی ایم اے بلوچستان نے کہا کہ حال ہی میں مبینہ طور پر 72 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے پی ایم اے واضح کرتی ہے کہ وہ کسی بھی غیر حاضر شخص کی حمایت نہیں کرتی اگر کوئی ڈاکٹر واقعی غیر حاضر پایا گیا تو پی ایم اے اس کا دفاع نہیں کرے گی تاہم ناقص اور نامکمل معلومات کی بنیاد پر کارروائی کسی صورت قابلِ قبول نہیں اس سے قبل مبینہ طور پر برطرف کیے گئے 25 ڈاکٹروں میں ایسے ڈاکٹر بھی شامل تھے جن کا ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلہ ہو چکا تھا مگر ان کی سابقہ تعیناتی کے ریکارڈ کو بنیاد بنا کر انہیں برطرف کر دیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ پی ایم اے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹروں پر عائد بی آر اے اور ایف بی آر ٹیکسز کے نوٹیفیکیشنز فی الفور واپس لیے جائیں، ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کیا جائے، اور ڈاکٹر غفور شورو پر حملے میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، ڈاکٹروں کی برطرفیوں کی شفاف انکوائری کی جائے۔ سزا قانون کے مطابق غیر حاضری کی مدت اور نوعیت کو دیکھ کر دی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ چند دن غیر حاضر رہنے والے ڈاکٹر کو شوکاز نوٹس دینے کے بجائے برطرفی جیسی بڑی سزا دے دی جائے۔ قانون میں غیر حاضری کی سزا کا جو طریقہ کار درج ہے، اسی کے مطابق کارروائی کی جائے۔
