مانگی ڈیم 80 فیصد مکمل ہوچکا، پنجگور ڈیم منصوبے سے مقامی آبادی متاثر ہوگی، سینیٹر جان محمد بلیدی

سینیٹر جان محمد بلیدی

ماخذ: این این آئی

کوئٹہ+اسلام آباد(این این آئی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے لیس ڈپولپڈ ایریا کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس اولڈ پی آئی پی ایس ہال (PIPS)پارلیمنٹ لاجز، اسلام آباد میں کنوینر سینیٹر جان محمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔کمیٹی کو پلاننگ کمیشن کی جانب سے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے تحت جاری منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پلاننگ کمیشن مجموعی طور پر 138 منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن میں 133 سے زائد جاری منصوبے اور سات نئے منصوبے شامل ہیں، جن کی منظور شدہ لاگت 1,984.3 ارب روپے ہے۔ موجودہ مالی سال کے دوران بلوچستان کے لیے 193 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ واٹر سیکٹر میں ڈیموں اور نہروں پر مشتمل 18 منصوبے شامل ہیں، جبکہ 54 منصوبوں کا تعلق سڑکوں کے شعبے سے ہے، جن میں سے 36 منصوبوں پر حکومتِ بلوچستان عملدرآمد کر رہی ہے۔وزارتِ آبی وسائل کے حکام نے ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ واٹر سیکٹر کے 18 منصوبے منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے 13 منصوبوں پر حکومتِ بلوچستان جبکہ پانچ منصوبوں پر وزارت کی نگرانی میں واپڈا عملدرآمد کر رہا ہے۔ ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 369.3 ارب روپے ہے، جبکہ موجودہ مالی سال کے لیے 16.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ 2010ءسے اب تک بلوچستان میں پانی کے 51 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ منگی ڈیم کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کا تقریباً 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور ڈیم سے حاصل ہونے والا پانی بنیادی طور پر پینے کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔محکمہ آبپاشی بلوچستان نے ذیلی کمیٹی کو 13 زیرِ تعمیر ڈیم منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی، جن میں گروک اسٹوریج ڈیم، آواران ڈیم، پنجگور ڈیم، وندر ڈیم، شہزنک ڈیم اور گیش کور اسٹوریج ڈیم شامل ہیں۔ پنجگور ڈیم پر بریفنگ پر کنوینر سینیٹر جان محمد بلیدی نے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تعمیر سے متعلق تنازعات اور مرکزی دریا کا پانی روکنے کے نتیجے میں مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی پر ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے سخت خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس منصوبے سے ضلع پنجگور کی پوری آبادی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور سپارکو اور واپڈا سے رپورٹ انتہائی ضروری ہے اس حوالے سے جامع رپورٹ اگلے سینٹ کمیٹی میں پیش کی جائے۔ حکام نے ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ مقامی نمائندوں سے مشاورت کی گئی ہے اور روایتی کاریزوں کے لیے پانی کے مناسب بہاو¿ کو یقینی بنانے کا انتظام کیا جائے گا۔ تاہم، کنوینر نے کہاکہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے ڈیم منصوبوں کے باعث مقامی آبادیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے منصوبے کی لاگت میں 18 ارب روپے سے بڑھ کر 23 ارب روپے تک اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ذیلی کمیٹی نے گیش کور اسٹوریج ڈیم منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔ کنوینر نے منصوبے کی مالی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کی نظرثانی شدہ لاگت گیارہ ارب سے بڑا کر چوالیس ارب کردیا گیا ہے جو انتہائی تشویشناک عمل ہے جس سے قومی دولت کا ضیاع ہے۔ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تعمیراتی لاگت کے تناسب سے یہ منصوبہ خاطر خواہ افادیت کا حامل دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے کیا کہ یہ منصوبہ مقامی آبادی کے لیے سود مند نہیں ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس کے گردونواح میں زرعی اراضیات نہیں ہیں اور کچھ علاقہ پہلے ہی ہاو¿سنگ اسکیموں کے زیرِ قبضہ ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ منصوبے کا ازسرِنو جائزہ لے کر نتائج ذیلی کمیٹی کو پیش کیے جائیں۔ ڈپارٹمنٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ امن و امان کی موجودہ صورتحال کے باعث متعدد ڈیم منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنا ممکن نہیں، جس کے نتیجے میں ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے مدت میں توسیع درکار ہوگی۔سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے حکام نے ذیلی کمیٹی کو بلوچستان میں جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنوینر نے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے متعلق وزیراعظم کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) عموماً ایسے منصوبوں پر کام کرتی ہے جن کے لیے مکمل فنڈنگ دستیاب ہو، جبکہ جزوی فنڈنگ کے انتظامات والے منصوبوں پر کام کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو ویسٹرن بائی پاس کوئٹہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس منصوبے پر ایک نجی کمپنی کام کر رہی ہے، جبکہ این-25 کراچی تا خضدار سیکشن پر ایف ڈبلیو او تین حصوں میں کام کر رہی ہے۔ این ایچ اے حکام نے ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان کے لیے مجموعی فنڈز کا 52 فیصد مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے کراچی تا چمن شاہراہ کے منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کو مختلف سڑکوں کے منصوبوں پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں کوئٹہ بائی پاس کا 86 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، ریکوڈک سے منسلک رابطہ سڑک تکمیل کے قریب ہے، جبکہ آواران۔ہوشاب روڈ کا 64 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ حکام نے ان منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے فنڈز کے بروقت اجرا کی ضرورت پر زور دیا۔کنوینر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بلیدہ ٹو پروم ، بلیدہ بالگتر اور بلیدہ جالگی سے منسلک رابطہ سڑکوں کے منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کو طلب کیا جائے تاکہ وہ ذیلی کمیٹی کو منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کر سکیں۔ انہوں نے حب سے گزرنے والی سڑک پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ویسٹرن کوئٹہ بائی پاس پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں ذیلی کمیٹی نے بلوچستان کے عوام کے لیے روزگار کے مواقع اور بھرتیوں کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان کے صوبائی کوٹے کے تحت 4,500 سے زائد آسامیوں کے اشتہارات جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے، جو صوبے سے متعلق بھرتیوں کے معاملات کی نگرانی اور ان میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔انہوںنے وضاحت کی کہ اگرچہ بنیادی پے اسکیل 1 تا 4 کی آسامیوں پر بھرتیوں کو عمومی طور پر محدود کر کے نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے، تاہم وفاقی حکومت نے بلوچستان کو اس پابندی سے استثنیٰ دیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے کے امیدواروں کو تکنیکی ٹیسٹ سے بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اور انہیں عمر کی حد میں پانچ سال کی رعایت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے 10 فیصد جبکہ اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھاتے ہوئے بلوچستان کے امیدواروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔ کنوینر نے پاکستان ریلوے میں امیدواروں کی کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مستقل بنیادوں پر مستقلی کے معاملے پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے فنانس ڈویژن، پاکستان ملٹری اکاو¿نٹس ڈیپارٹمنٹ، سروے آف پاکستان اور کے الیکٹرک کمپنی (کیسکو) کی جانب سے جاری کردہ بھرتیوں کے اشتہارات کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ کنوینر نے آن لائن بھرتی کے درخواست جمع کرانے کے نظام میں تکنیکی مسائل کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ پانچ سالہ عمر کی رعایت کے باوجود سافٹ ویئر زائد العمر امیدواروں کو درخواست جمع کرانے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان تکنیکی خامیوں کو دور کیا جائے تاکہ بلوچستان کے اہل امیدوار روزگار کے مواقع سے محروم نہ رہیں۔