اشاعتی ڈیسک: روزنامہ بلوچستان نیوز ویب ڈیسک
اسلام آباد (ویب ڈیسک) ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ پر جاری پارٹی ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی کی جانب سے دیے گئے ٹی وی انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، محمود اچکزئی نے کہا ہے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔ "ہم تو بڑی آہستگی اور بتدریج اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ کوئی ایک دن کا ایونٹ نہیں ہوگا۔ ایک عجیب قسم کا بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ اسلام آباد پر یلغار ہوگی۔ جب سے یہ قافلہ لکی مروت اور آج کوہاٹ سے نکلا ہے، تو ان دو تین دنوں میں کیا وہاں بغاوت یا انسرجنسی کا کوئی واقعہ پیش آیا ہے؟” "ہمارا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ آپ ہمیں عمران خان صاحب سے ایکسیس دے دیں، باقی سارے مسائل ہیں حل ہو جائیں گے۔” یہ کوئی اتنی بڑی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ ہر پارٹی اپنے رہبر سے منظوری لے کر آ رہی تھی۔ ہمارا سادہ سا مطالبہ یہ ہے کہ ہم آپ کے ساتھ جو بھی پیش رفت کریں گے، وہ عمران خان کی منظوری سے مشروط ہوگی۔ اس کے بغیر ہم کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں، یہ کوئی نامعقول بات تو نہیں ہے۔ اگر آپ نے ہمیں دو دن بعد ملوانا ہے تو آج ہی ملوا دیجیے۔ یہ مسودہ ہم ان کے ساتھ جا کر زیرِ بحث لائیں گے، اور اگر آپ کو یہ بھی خدشہ ہے کہ کوئی پی ٹی آئی کا نمائندہ جائے گا اور اسے عمران خان کوئی سخت پیغام دیں گے یا کوئی سخت بات سامنے آئے گی، تو ہم نے آپ سے یہ کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی صاحب اور علامہ راجہ ناصر عباس صاحب کی ملاقات کرائیں۔ یقیناً عمران خان کی گفتگو ان کے ساتھ کچھ اور پیرائے میں ہوگی، کیونکہ وہ ان کی پارٹی کے لوگ نہیں ہیں اور عمران خان کے دل میں ان کے لیے بہت عزت اور احترام ہے، تو یہ معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اور ہم نے آج یہ بھی کہا ہے کہ اگر آپ اتنے سنجیدہ ہیں تو آپ عمران خان کی بہنوں کو خیر سگالی کے طور پر رہا کردیں تاکہ ہمیں بھی اندازہ ہو کہ آپ نے کچھ سنجیدگی دکھائی ہے۔ لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے، ان کے کزن کو بھی اٹھا لیا گیا ہے۔ تو ایسے ماحول کے اندر اب اچکزئی صاحب یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جب اس طرح کا ماحول ہوگا تو ہم بھی اس بات پر سوچ رہے ہیں کہ آیا میں وزیراعظم سے ملوں یا نہ ملوں۔ اب وہ چیز بھی مجھے کھٹائی میں پڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
