ماخذ: یو این اے
زیارت (یو این اے) دھرنا کمیٹی زیارت اور آل پارٹیز زیارت کے زیرِ اہتمام شہدا زیارت کے چہلم کے موقع پر زیارت بازار میں ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی، جو شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی خنڈی سر پلازہ پہنچ کر بڑے جلسہ عام میں تبدیل ہوگئی۔ جلسے کی صدارت جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر مولانا نور الحق نے کی۔جلسے سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسی روشان، پشتون تحفظ موومنٹ کے صوبائی کوآرڈینیٹر نور باچا، جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی ترجمان دلاور خان کاکڑ، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی رہنما سردار اکبر خان ترین، سردار حبیب الرحمن دومڑ، سردار قاسم خان سارنگزئی، سردار فرید اللہ دومڑ، حاجی عبدالفیاض، مولانا عصمت اللہ سالم، جمیل پشتون، صاحبزادہ محیب اللہ، سردارزادہ عیسی خان، محمد نسیم پانیزئی، نصیب اللہ کاکڑ، سرور شبوزئی، حاجی عبدالعزیز، مولوی شریف اور پارالدین کاکڑ سمیت دیگر رہنماں نے خطاب کیا، جبکہ ڈاکٹر عبدالصمد پانیزئی نے جلسے میں متفقہ قراردادیں پیش کیں۔مقررین نے شہدا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا زیارت کی عظیم قربانی نے تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین اور عوام کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ان کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی اور عوام کے جائز مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔مقررین نے بارہ روزہ منظم، پرامن اور جمہوری دھرنے کے انعقاد پر دھرنہ کمیٹی کے منتظمین اور شرکا کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ زیارت کے عوام نے ثابت کیا ہے کہ اپنے آئینی، جمہوری اور اجتماعی حقوق کے لیے متحد ہوکر پرامن جدوجہد کی جاسکتی ہے۔ دھرنے نے ایک نئی جمہوری روایت قائم کی ہے جسے ہر سطح پر سراہا جانا چاہیے۔مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہدا کے لواحقین اور آل پارٹیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر من و عن اور فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایف سی کی واپسی کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر اس کے برعکس زیارت میں سیکیورٹی کے نام پر عوامی اور قبائلی زمینوں پر غیر قانونی تعمیرات اور قبضے کی کوششیں جاری ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ زیارت کے تاریخی اور عالمی اہمیت کے حامل جونیپر کے قدیم جنگلات کی کٹائی انتہائی تشویشناک، ماحول دشمن اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ سیکیورٹی کے نام پر تاریخی جنگلات اور عوامی زمینوں کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ قومی و بین الاقوامی ماحولیاتی ادارے اور متعلقہ حکام اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور جونیپر کے قدرتی ورثے کا تحفظ یقینی بنائیں۔جلسے کے شرکا نے شہدا کے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبات کے حق میں پرجوش نعرے لگائے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ شہدا کے خون، عوام کے حقوق، قبائلی اراضی اور زیارت کے قدرتی و تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔جلسے سے قبل شہدا کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی دعا اور لنگر کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
