اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک اور گنتی کی آواز آ رہی ہے، بلاول بھٹو اچھی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں، بلاول بھٹو کو آخری بال تک لڑائی کرنی چاہیے، بلاول بھٹو کو 10 اگست تک ا±لٹی گنتی رکھنی چاہیے۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ 10 اگست کے بعد گنتی سیدھی ہو جائے گی، ن لیگ آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں اپوزیشن کا کردار نبھائے گی، آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا دور شروع ہوگا، پیپلز پارٹی نے انتہائی غیر سنجیدہ الزامات بہت سنجیدگی سے لگائے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا اپنے کارکن کے قتل کا الزام غیرسنجیدہ ہے، ایک بیان آ رہا ہے کہ بزرگ آدمی ہارٹ اٹیک سے فوت ہوئے، ابھی طے نہیں ہوا کہ ڈنڈا لگنے یا ہارٹ اٹیک سے وفات ہوئی، پیپلز پارٹی نے ایل اے 31 کے اپنے امیدوار پر قاتلانہ حملے کا کہا، پتا چلا کہ ایل اے 31 کے امیدوار کو گالیاں نکالی گئیں، کیا گالیاں نکالنے سے قاتلانہ حملہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک افواہ ا±ڑائی گئی کہ پیپلزپارٹی کے ایم این اے کو زخمی کر دیا گیا لیکن پتا کروایا گیا تو ایک ایم این اے گاڑیوں کے ساتھ پولنگ اسٹیشنز میں آئے،فائرنگ کی،یہ سب ووٹنگ روکنے کیلئے سانگھڑ کے ایم این اے صلاح الدین جونیجو نے کیا اور جب صلاح الدین جونیجو چوتھے پولنگ اسٹیشن پر گئے تو عوام نے شور شرابا کیا۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ہم نے کہا ایم این اے کا بازو ٹوٹ گیا ہے تو اسپتال لائیں اور پرچہ دیں لیکن بعدمیں کہا گیا ایم این اے کاہاتھ ٹوٹ گیا ہے ، ہم نے کہا اس کا میڈیکل کروائیں تو پھر کہا گیا کہ ایم این اے کے انگوٹھے کو گولی چھو کر گزری،ہم نے کہا ڈاکٹر سے لکھوا دیں کہ گولی انگھوٹھے کو چھو کر گزری ہے تو پرچہ دے دیتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ گولی انگوٹھے کو چھو کر نہیں گزری بلکہ ایم این اے کے پاس سے گزری ہے،ایک ایم این اے کا کیا کام ہے کہ دوسرے صوبے کی پولیس کو پولنگ اسٹیشنز پر لے جائے، ساتوں حلقوں میں 53 فیصد ٹرن آﺅٹ رہا ہے،بلاول بھٹو کو ا±ن کے لوگوں نے گمراہ کیا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ ملکر سازش کی گئی،ایک ایک کا نام ثابت کریں گے، میرا الزام ثابت نہ ہو تو جو سزا دیں گے لینے کو تیار ہوں، ایل اے 28 میں پولنگ کا سامان نہیں پہنچ سکا،اس کو بھی پیپلزپارٹی اور ایکشن کمیٹی نے ملکرروکا، محسن نقوی کی گفتگو سے ذاتی طور پر سخت نالاں اور متفق نہیں ہوں، محسن نقوی کو کابینہ رکن کے طور پر وزیراعظم اور فیلڈمارشل کو مخاطب نہیں کرنا چاہیے تھا۔ فیلڈمارشل عاصم منیر قوم کے ہیرو ہیں۔ راناثنااللہ کا کہناتھا کہ قومی ہیرو کو اس طرح کہنا کہ وہ ریڈلائن کراس نہیں کرنا چاہتے یہ گفتگو درست نہیں، محسن نقوی کی باتوں کا جواب آج ہی دینا چاہتا تھا،لیکن پارٹی پالیسی آگئی، پارٹی پالیسی ہے کہ محسن نقوی کی باتوں کا جواب نہ دیں،نظر انداز کریں، محسن نقوی کی باتوں کاجواب دیتا تو ا±نہیں پتا چلتا، محسن نقوی چھوٹے یونٹس پر بات کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے توثیق کی ہے تو اچھا کیا، صوبے بنانے کی بات میں یہ کہاں سے آ گیا کہ 18 گھنٹے کام کریں۔ محسن نقوی نے کہا تاجر سیاستدانوں کو الیکشن مہم کیلئے پیسے دیتے ہیں، تاجر کس سیاستدان کو پیسے دیتے ہیں، محسن نقوی اس سیاستدان کا نام بتائیں، ہم محسن نقوی سے پوچھیں گے، ہمیں محسن نقوی سے پوچھنے سے روک دیا گیا ہے، پارٹی نے آج نوازشریف کی رضامندی سے فیصلہ کیا، محسن نقوی کی باتوں کا جواب آج ہی دینا چاہتا تھا، لیکن پارٹی پالیسی آگئی، پارٹی پالیسی ہے کہ محسن نقوی کی باتوں کا جواب نہ دیں، نظر انداز کریں۔ محسن نقوی کی باتوں کا جواب دیتا تو انہیں پتا چلتا۔
10 اگست کے بعد گنتی سیدھی ہو جائے گی، کشمیر میں ن لیگ حکومت بنائے گی، رانا ثنا اللہ
