پشاور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے نشتر ہال پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ٹریڈرز ونگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں سے جس میں ہمارے معصوم قبائلی، معصوم پختون شہید ہوتے ہیں اس کیلئے بارود ہے تو جس معدنیات کو نکالنے سے میرے گھر کا چولہا جلتا ہے تو اس کیلئے تمہیں بارود دینا ہوگا، لازمی دینا ہوگا، آپ کے جیٹ طیاروں کی بمباری کے بارود سے ہمارے معصوم بچوں کے سینے چھلنی ہوتے ہیں، تو آپ کو ہمارا روزگار چلنے دینے کیلئے ہمیں بارود دینا ہوگا۔ خیبر پختونخوا حکومت اس میں آپ کا بھرپور ساتھ دے گی پہلے افہام تفہیم سے مسئلہ حل کریں گے اس سے مسئلہ حل نہ ہوا تو جس طرف آپ لے کر جائیں گے صوبائی حکومت آپ کا ساتھ دے گی۔ سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ پچھلے 78 سال سے مسلسل خیبر پختونخوا کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہوتا آرہا ہے جو بھی نیا تجربہ باہر ملکوں کی طرف سے کروانا ہوتا ہے وہ خیبر پختونخوا میں شروع ہوجاتا ہے، پرائی جنگ میں جانا جرنیل کا فیصلہ تھا جس کی پاکستان کو کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن جرنیل نے فیصلہ کیا کہ ہم امریکا کی جنگ کا حصہ بنیں اور یہاں پر دہشتگردی لائی گئی، ہمارے 80 ہزار جوان شہید ہوئے، 80 ہزار جانوں کا نذرانہ دیکر ہم نے بہت مشکل سے یہاں پر امن دیکھا تھا لیکن جب عمران خان کی حکومت کو گرایا گیا تو اس کے بعد ایک اور پالیسی بنائی گئی پھر کچھ جرنیل بیٹھے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہاں دوبارہ امن و امان تباہ و برباد کردیا جائے گا۔ ہم چیختے رہے ہم چلاتے رہے کہ دیکھو یہ آرہے ہیں یہ ہمارے صوبے کا پھر امن خراب کریں گے، بارڈر کراس کرلیا، ہم نے کہاں پہاڑوں پر پہنچ گئے، ہمیں کہا گیا کہ آپ پروپیگنڈا کررہے ہیں۔ ہم نے پورے خیبر پختونخوا میں جلسے کیے کہ اس سے پھر ہماری پھر تباہی ہوگی، ہمارا انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگا، ہمارے لوگ شہید ہوں گے، ہمارے تاجر روئیں گے، ہمارے کاروبار تباہ ہوں گے، نہ کروں یہ فیصلہ، آپ نے ڈالر کمانے ہیں کماﺅ، آپ نے جزیرے خریدنے ہیں خریدو لیکن میرے لوگوں کے سر کی قیمتوں پر نہیں، ہم تجربہ گاہ نہیں ہیں، ہم بھیڑ بکریاں نہیں ہیں، ہم کیڑے مکوڑے نہیں ہیں کہ جب بھی آپ کوئی نیا طریقہ آزمائیں گے جس سے آپ کی جیب بھرے گی خیبر پختونخوا کو قربانی کا بکرا بنائیں، ہمیں کہا گیا کہ جھوٹ بول رہے ہیں، آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ خیبر پختونخوا میں حالات ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں، پہلے انہوں نے خیب رپختونخوا میں بھی خود ساختہ حالات خراب کیے، انہوں نے بلوچستان میں بھی خود ساختہ حالات خراب کیے، آج بلوچستان بھی ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے، آج خیبر پختونخوا بھی ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے، جو حالات بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں خراب کیے گئے تھے وہ اب صرف دونوں صوبوں تک محدود نہیں رہے، کشمیر میں حالات دیکھیں کتنی بے دردی سے ہمارے کشمیری بھائیوں کو بہنوں کو یہ مار رہے ہیں، گولیاں چلا رہے ہیں۔ بچپن سے ہم ایک ہی نعرہ لگاتے رہے ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، کشمیر ہمارا ہے تو آج کس طرف لے جارہے ہو ہمارے کشمیر کو، کون پالیسی بنا رہا ہے، کون آپ کو بتا رہا ہے کہ بندوق کی نوک پر ڈنڈے کے زور پر آپ پاکستان کو اٹھا سکتے ہیں۔ نہیں اٹھا سکتے پچھلے 22 سال سے اگر بندوق کام کرتی تو خیبر پختونخوا میں آج امن ہوتا، اگر پچھلے 78 سال سے یہ بندوق والے پاکستان کی تقدیر بدل سکتے تو آپ کا وزیر ٹی وی پر آکر یہ نہیں کہتا کہ یہ سسٹم کولیپس ہوچکا ہے، کون ہے اس سسٹم کا بنانے والا، چلانے والا، جب پاکستان کی معیشت اچھی چل رہی تھی ہمارے تاجر خوش، ہمارے کسان خوش، ہمارے نوجوان خوش، تمام لوگوں کو روزگار مل رہے تھے، عالمی وبا کورونا کے باوجود ہماری جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد پر تھی تو کیوں آپ لوگوں نے رجیم چینج آپریشن کیا، کیوں ان چوروں لٹیروں، ڈاکوﺅں کو پاکستان پر مسلط کیا، کس نے کیا آپ نے کیا۔ چلو ہم نے مان لیا ہم پہلے سے جانتے تھے کہ یہ سسٹم کولیپس کرچکا ہے کیونکہ سسٹم تو آپ کے ہاتھ میں ہے جن کا کام ہے سرحدوں کی حفاظت کرنا وہ پاکستان کے سیاسی فیصلے کررہے ہیں۔ جن کا کام ہے پاکستان میں امن بحال رکھنا، پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کرنا وہ سیاسی انجینئرنگ میں لگے ہوئے ہیں، تو سسٹم کولیپس نہیں کرے گا، جن کا کام ہے عوام کو تحفظ دینا وہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم لاکر عدلیہ کا بیڑا غرق کررہے ہیں، جن کا کام ہے انصاف دلانا وہ چٹوں کا انتظار کرتا ہے، جن کا کام ہے صاف و شفاف الیکشن کرنا وہ کسی اور کی طرف دیکھ رہے ہیں، جن کا کام پاکستان میں عوامی مینڈیٹ کا تحفظ کرنا ہے وہ کبھی ایک کو ایک صوبہ دے رہا ہے، دوسرے کو دوسرا صوبہ دے رہا ہے۔ فرض کریں ایسا چلے گا تو سسٹم تو کولیپس کریگا نہ۔ اب حل کیا ہے کون آئے گا عمران خان کو تو آپ چاہتے ہیں لیکن یہ جو کچھ کا ٹولا ہے وہ تو عمران خان کے نام سے ڈرتا ہے، وہ تو عمران خان کی تصویر سے ڈرتا ہے، وہ عمران خان کے الفاظ سے ڈرتا ہے وہ کیسے لائے گا عمران خان کو، عمران خان اگر باہر آیا تو جو 78 سال سے انہوں نے قبضہ جمایا ہے وہ ان کے ہاتھ سے چلا جائے گا۔ عمران خان کی جو مقبولیت ہے اسٹیبلشمنٹ کبھی نہیں چاہے گی کہ عمران خان باہر آئے، اب کس کی باری ہے جو ان کے بڑے تھے چور نمبر ایک، چور نمبر 2 جو دوبارہ ہم پر مسلط ہوئے تھے وہ دوبارہ آئیں گے، یا جو ان کے پرچی والے بچے ہیں وہ دوبارہ آئیں گے یا جو اس سسٹم کی ناجائز پیداوار ہیں ان کو بٹھایا جائیگا۔ گدھے پر لکیریں ڈالنے سے زیبرا نہیں بنے گا، آپ لوگ اس سسٹم کا ناسور ہیں، آپ لوگوں سے یہ سسٹم نہیں چلے گا، یہ سسٹم ایک شخص چلا سکتا ہے جو اڈیالہ جیل میں قید ہے جس کا نام ہے عمران احمد خان نیازی ہے۔ پورے پاکستان کے حالات کے ذمے دار وہ منصوبہ ساز ہیں جو بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ کل آپ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان سنا کہ کشمیر میں جو کچھ چل رہا ہے وہ سیاسی حکومت کررہی ہے یہ وہاں کی حکومت کررہی ہے وہاں تو حکومت پیپلز پارٹی کی ہے پیپلز پارٹی نے وہاں پر 2 سو سے زیادہ لوگوں کو شہید کردیا جب ماڈل ٹاﺅن کا سانحہ ہوا اس وقت ن لیگ کی حکومت تھی پنجاب کی اس کے بعد ہر احتجاج پر ان کا یہ جبر و فسطایت چلتی رہتی ہے۔
بلوچستان، کے پی میں خود ساختہ حالات خراب کرکے چوروں کو پاکستان پر مسلط کردیا گیا، سہیل آفریدی
