ماخذ: یو این اے
صحبت پور (یو این اے) ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس بلوچستان میں صوبائی سطح سے لے کر ضلعی سطح تک ایس پی سے لے کر سپاہی رینک تک کی ہزاروں اہم آسامیاں طویل عرصے سے خالی پڑی ہیں، جس کے باعث نہ صرف دفتری و انتظامی امور شدید متاثر ہو رہے ہیں بلکہ کئی غریب نوجوان نئی بھرتیوں اور اہل ملازمین جائز ترقیوں سے محروم ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق محکمہ پولیس میں اس وقت ایس پی کی 88، ڈی ایس پیز کی 24، انسپکٹرز کی 98، پراسیکیوٹر انسپکٹرز کی 23 اور سب انسپکٹرز کی 247 آسامیاں خالی ہیں۔ اس کے علاوہ دفتری عملے میں آفس سپرنٹنڈنٹ کی 28، اسسٹنٹ آفس کی 96، سینئر کلارک کی 18 اور جونیئر کلارک کی ریکارڈ 3391 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ فیلڈ فورس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی)کی 877، اردلی کانسٹیبلز کی 500، ہیڈ کانسٹیبلز کی 365 اور کانسٹیبلز کی 2880 سے زائد پوسٹس خالی ہونے کی وجہ سے نفری کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے آئی جی پولیس بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جن اضلاع میں پولیس ملازمین کی محکمانہ ترقیاں روک دی گئی ہیں، انہیں فوری بحال کر کے اہل اہلکاروں کو اگلے رینک میں ترقیاں دی جائیں۔ ذرائع کے مطابق ترقیوں اور نئی بھرتیوں کے اس تعطل سے سب سے زیادہ متاثر نصیرآباد رینج اور بالخصوص ضلع صحبت پور ہوا ہے، جہاں خالی آسامیوں کو فوری طور پر پر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
