ماخذ: یو این اے
خضدار (یو این اے) وڈھ سے منسلک دیہاڑی دار طبقہ امید کرتا ہے کہ بازار کل بازار کھل جائے گا پرسوں کھل جائے گا یہی امید لیکر وڈھ کا تاجر اور دیہاڑی دار طبقہ بے حسی کی صورتحال میں وقت گزار رہا وڈھ بازار بند ہونے سے سب زیادہ متاثر غریب طبقہ ہے جو انتہائی کوفت سے دو چار ہے مزدور دیہاڑی دار طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہے وڈھ بازار کی بندئش سے پورا علاقہ متاثر ہے مگر غریب دیہاڑی طبقہ علاقہ سے دربدر ہونا نہیں چاہتا ان کے مطابق امید ہے کہ وڈھ بازار کھل جائے گا مسلہ حل ہوگا اور ان کا چھولہ جل جائے گا وڈھ بازار کے کل کا دوکاندار آج روڈ کے کنارے مٹی کے اوپر چند ٹافیوں کی دوکان لگا کر بیٹا ہے کہ ان کے بچوں کا گزر بسر ہو حجام کی کرسیاں روڈ پر کھولے آسمان تلے رکھے ہیں جیسے کبھی کراچی اور کوئٹہ کے میزان چوک پر روڈ کے فٹ باری یہ منظر دیکھا جاتا تھا وڈھ کے غریب عوام کی بے حسی پر کسی کو رحم نہیں آرہا شاہد ان کی مقدر میں ہر پانچ دس سال یہی مقدر لکھی ہیں میرا وڈھ کچھ عجیب منظر پیش کررہا ہے وڈھ بازار میں داخل ہوتے ہی کرفیو جیسا منظر سامنے آتا ہے جیسے کہ ہم کسی جنگ زدہ علاقے میں داخل ہوا ہو۔
