اے این پی، بی اے پی اور پشتونخوا میپ نے ہرنائی کو لورالائی ڈویژن میں شامل کرنیکا حکومتی فیصلہ مسترد کردیا

اے این پی، بی اے پی اور پشتونخوا میپ نے ہرنائی کو لورالائی ڈویژن میں شامل کرنیکا حکومتی فیصلہ مسترد کردیا

ہرنائی (نامہ نگار) نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی ترجمان ولی داد میانی نے ضلع ہرنائی کو سبی ڈویژن سے الگ کرکے لورالائی ڈویژن میں شامل کرنے کی مجوزہ تجویز کو عوامی امنگوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہرنائی کے عوام کسی بھی صورت اپنے ضلع کو سبی ڈویژن سے الگ کرنے کا فیصلہ قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ہرنائی کی تاریخی، جغرافیائی، انتظامی اور معاشی شناخت سبی ڈویژن کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ حکومت عوام کی رائے اور زمینی حقائق کو نظرانداز کرکے ایسے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے جن سے عوام میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہو۔ عوامی نیشنل پارٹی واضح طور پر مطالبہ کرتی ہے کہ ضلع ہرنائی کو بدستور سبی ڈویژن میں برقرار رکھا جائے۔ولی داد میانی نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ضلع ہرنائی آج بدامنی، بھتہ خوری، اغواءبرائے تاوان، خستہ حال سڑکوں، بے روزگاری، تعلیمی اور صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہے لیکن حکومت عوام کے حقیقی مسائل حل کرنے کے بجائے انتظامی نقشوں میں تبدیلیوں میں مصروف ہے۔ عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ایسے فیصلوں کا مقصد کیا ہے اور اس سے ہرنائی کے عوام کو کیا فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ ہرنائی کے مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے سے قبل عوام، سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین اور سماجی حلقوں سے مشاورت ناگزیر ہے۔ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے عوام پر مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ اگر حکومت نے عوامی خواہشات کے برعکس کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف جمہوری اور سیاسی مزاحمت کی جائے گی۔صوبائی ترجمان نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ضلع ہرنائی کو سبی ڈویڑن سے الگ کرنے کی تمام تجاویز فوری طور پر واپس لی جائیں اور عوام کے دیرینہ مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ضلع ہرنائی کے عوام کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر بھرپور آواز اٹھاتی رہے گی اور عوامی رائے کے خلاف کسی بھی فیصلے کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ہرنائی، حاجی ظریف خان ترین نے ہرنائی کو سبی ڈویژن سے علیحدہ کرکے لورالائی ڈویژن میں شامل کرنے کی کسی بھی تجویز یا اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ عوام کی خواہشات، تاریخی حقائق اور انتظامی ضروریات کے برعکس ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہرنائی کی تاریخی، انتظامی، سماجی اور جغرافیائی وابستگی سبی ڈویژن کے ساتھ ہے، لہٰذا عوام کی رائے لیے بغیر اس کی ڈویژنل حیثیت تبدیل کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ایسے فیصلے عوام میں بے چینی پیدا کریں گے اور انتظامی مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ حاجی ظریف خان ترین نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہرنائی کے عوام کے حقوق کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اگر حکومت نے عوامی امنگوں کے خلاف کوئی یکطرفہ فیصلہ کیا تو عوامی نیشنل پارٹی بھرپور جمہوری اور آئینی احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ دریں اثناءہرنائی کو سبی ڈویژن سے الگ کرکے لورالائی ڈویژن میں شامل کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی ضلع ہرنائی کے صدر ملک روح اللہ خان ترین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ضلع ہرنائی کو سبی ڈویژن سے الگ کرکے لورالائی ڈویژن میں شامل کرنے کا فیصلہ درست نہیں اور ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ہرنائی کے عوام کی رائے بھی یہی ہے کہ ہرنائی کو سبی ڈویژن کا حصہ رکھا جائے۔ ملک روح اللہ خان ترین نے کہا کہ ہرنائی کا سبی ڈویژن کے ساتھ طویل عرصے سے انتظامی جغرافیائی اور عوامی تعلق قائم ہے۔ ضلع کے سرکاری و انتظامی معاملات بھی سبی ڈویژن کے ساتھ منسلک رہے ہیں لہٰذا عوام کی رائے اور زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے ہرنائی کو لورالائی ڈویژن میں شامل کرنا عوامی مفاد کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی اہم انتظامی فیصلے سے قبل مقامی عوام قبائلی عمائدین سیاسی جماعتوں منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ ضلع ہرنائی کے مستقبل سے متعلق فیصلے عوام کی مرضی اور مفاد کے مطابق ہونے چاہئیں نہ کہ ایسے فیصلے مسلط کیے جائیں جن سے عوام میں بے چینی اور مشکلات پیدا ہوں۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ ضلع ہرنائی کو سبی ڈویژن سے الگ کرکے لورالائی ڈویژن میں شامل کرنے کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور ہرنائی کو بدستور سبی ڈویژن میں برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان عوامی پارٹی ضلع ہرنائی عوام کے مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور اس اہم معاملے پر ہرنائی کے عوام کے موقف کے ساتھ کھڑی ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماءڈسٹرکٹ چیئرمین ہرنائی ملک عبدالسلام عبدالانی نے کہا ہے کہ ہرنائی کو سبی ڈویژن سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہرنائی کا سبی ڈویژن کے ساتھ ایک گہرا تاریخی، ثقافتی، جغرافیائی اور عوامی تعلق ہے، جو برطانوی دور سے قائم ہے۔ اس دیرینہ رشتے کو یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ ہرنائی کے عوام کی امنگوں اور خواہشات کے برعکس ہے، لہٰذا اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرنائی کے عوام اپنے تاریخی تشخص اور سبی ڈویژن کے ساتھ تعلق پر فخر کرتے ہیں اور اس رشتے کو ہر صورت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہرنائی کو سبی ڈویڑن سے الگ کرنا یہاں کے غیور عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہرنائی کا سبی ڈویژن میں برقرار رہنا انتظامی، معاشی اور سماجی اعتبار سے زیادہ موثر اور فائدہ مند ہے، جو ایک اٹل حقیقت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہرنائی کے عوام کسی بھی یکطرفہ اور غیرمنصفانہ فیصلے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔