خضدار (بلوچستان نیوز) خضدار میں اراضی کے تنازع نے سنگین صورتحال اختیار کرلی۔ رئیس ذکریا نتھوانی نے الزام عائد کیا کہ ایک منظم قبضہ گروہ ان کی موروثی اراضی پر غیر قانونی قبضے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن مخالفین نے مسلح حملہ کرکے جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ خضدار پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رئیس ذکریا نتھوانی نے اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ کہا کہ ایک منظم قبضہ گروہ نے ان کی موروثی اراضی پر غیر قانونی تعمیرات شروع کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں معاملے کو خوش اسلوبی اور اخلاقی انداز میں حل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم مخالفین نے بات چیت کے بجائے مسلح ہو کر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں ان کے خاندان کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ رئیس ذکریا نتھوانی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اراضی کی ملکیت ثابت کرنے کی تمام قانونی اور مستند دستاویزات موجود ہیں، جبکہ مخالف فریق نے اپنے دعوﺅں کو تقویت دینے کے لیے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات تیار کرکے مختلف فورمز پر پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ان دستاویزات کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں تو معلوم ہوا کہ جن افراد کے دستخط ان کاغذات پر ظاہر کیے گئے ہیں، وہ جعلی ہیں۔ متعلقہ افراد نے نہ صرف ان دستخطوں کی تردید کی بلکہ تحریری طور پر بھی اس امر کی تصدیق کی کہ مذکورہ دستاویزات میں ان کے نام اور دستخط غیر قانونی طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران رئیس ذکریا نتھوانی کے بھائی نے میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ موضع نوا میں واقع اراضیات ان کے آباﺅ اجداد کی ملکیت ہیں اور ان کا خاندان صدیوں سے وہاں آباد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملا سبزل خان کے نام سے موجود قدیمی اور مستند دستاویزات ان کی ملکیت کا ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کمشنر قلات ڈویژن کی جانب سے کی گئی حد بندی کا فیصلہ بھی ان کے حق میں آچکا ہے، جس سے ان کے موقف کو مزید قانونی تقویت حاصل ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود بعض عناصر مختلف حربے استعمال کرکے زمین پر قبضہ جمانے کی کوشش کررہے ہیں۔ متاثرہ خاندان نے بلوچستان حکومت، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ اراضی تنازع کی شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ تحقیقات کرائی جائیں، جعلی دستاویزات تیار کرنے اور مسلح حملے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور اصل حق داروں کو ان کا جائز حق فراہم کیا جائے۔
قبضہ گروہ نے ہماری موروثی اراضی پر قبضے کیلئے مسلح حملہ کرکے جانی نقصان پہنچایا، متاثرہ افراد کی خضدار پریس کلب میں دہائی
