بجٹ ٹیکس فری، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، نوجوانوں کیلئے 5 ہزار نئی اسامیاں تخلیق کی جائیں گی، وزیر خزانہ بلوچستان

بجٹ ٹیکس فری، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، نوجوانوں کیلئے 5 ہزار نئی اسامیاں تخلیق کی جائیں گی، وزیر خزانہ بلوچستان

اشاعتی ڈیسک: روزنامہ بلوچستان نیوز ویب ڈیسک

کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان کے وزیرخزانہ میر شعیب نوشیروانی بلوچستان کے آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ نئے سال کے بجٹ کا حجم 1089 ارب روپے ہے، ٹیکس فری بجٹ ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایاگیا۔ بلوچستان حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کے مطابق صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ میں جنرل پبلک سروس کے لیے 270 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صحت کے لیے 74 ارب اور تعلیم کے لیے 157 ارب روپے رکھے گئے، امن وامان کے لیے 108 ارب جبکہ بینک آف بلوچستان کے قیام کےلئے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی گرانٹس کے تحت 30 ارب 61 کروڑ روپے موصول ہونے کی توقع ہے، غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 798 ارب روپے ہے، سیف سٹی منصوبوں کے فیزٹو کےلئے 5 ارب روپے مختص کیے گئے۔ صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق نئی اسامیوں میں اسکول ایجوکیشن میں 3 ہزار اور محکمہ صحت میں 500 اسامیاں شامل ہیں، اس میں نئے اضلاع کیلئے ایک ہزار اور مختلف محکموں میں 500 اسامیاں بھی شامل ہیں۔ نوجوانوں کےلئے 5000 نئی اسامیاں تخلیق کی جارہی ہیں، نئے بجٹ میں کسان کارڈ پروگرام کیلئے ایک ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سیلز ٹیکس اور نئی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیکس معاف کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مشکل حالات میں سرکاری مراعات میں کمی کو یقینی بنایا ہے، بجٹ میں ہماری ترجیحات تعلیم، صحت اور امن وامان ہیں، صوبے کی ترقی کے لیے درست سمت میں گامزن ہیں، حکومتی اقدامات صرف کاغذ پر نہیں بلکہ عملی طور پر نظر آرہے ہیں۔