کوئٹہ(بلوچستان نیوز)کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں سبزی فروشوں پر فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق، 2 زخمی ہو گئے۔ترجمان پولیس کے مطابق لاشوں اور زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔اس واقعے کے خلاف مشتعل افراد نے ہزارہ ٹاؤن کے قریب مغربی بائی پاس کو بند کر کے احتجاج شروع کر دیا جس سے ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی، مظاہرین نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث افراد قانون کے گرفت سے نہیں بچ سکیں گے، انھوں نے اسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کی جائے۔دوسری جانب بلوچستان کے ساحلی قصبے جیوانی کے قریب سمندر میں نامعلوم مسلح افراد نے پاکستان کوسٹ گارڈ کی گشتی کشتی پر بزدلانہ حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں تین اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ذرائع کے مطابق شہدا میں نائیک افضل، سپاہی جمیل اور سپاہی عمیر شامل ہیں، جو معمول کے مطابق سمندری حدود کی نگرانی اور گشت پر مامور تھے کہ اچانک نامعلوم سمت سے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی گئی۔ حملہ اتنا اچانک اور منظم تھا کہ اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے، جبکہ حملہ آور واردات کے بعد سمندری راستے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔اس المناک واقعے کے بعد جیوانی اور گوادر سمیت پوری ساحلی پٹی پر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور تمام حساس مقامات پر ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ کوسٹ گارڈ، پاک بحریہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سمندر اور خشکی پر حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اسے ساحلی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ شہدا کی میتوں کو ضروری کارروائی کے بعد ان کے آبائی علاقوں میں روانہ کیا جائے گا، جبکہ سیکیورٹی ذرائع نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وطن کے دفاع میں جانیں قربان کرنے والوں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا اور ملوث عناصر کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔
کوئٹہ اور جیوانی میں فائرنگ،3اہلکاروں سمیت 6افراد جاں بحق
