اسلام آباد،تہران (بلوچستان نیوز)پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے مابین ہونیوالے طویل مذاکرات بغیرکسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوگئے۔نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ ایران نے امریکی شرائط قبول کرنے سے انکار کردیا،ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا لیکن افسوس کہ کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی، کسی ڈیل کے بغیر ہم واپس امریکا جا رہے ہیں،ہم نے ایک حتمی اور بہترین آفر پیش کی، دیکھتے ہیں ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔نائب امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں اتوار کی صبح پریس بریفنگ کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے حیرت انگیز کام کیا، دونوں نے امریکا ایران اختلافات دور کرنے کی کوشش کی۔جے ڈی وینس نے کہا مذاکرات میں جو کمی رہ گئی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں تھی، پاکستان نیہمارے اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے میں بہترین کام کیا، پاکستان نے کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کی بھرپورکوشش کی۔نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ ایران کے ساتھ 21 گھنٹے سے مذاکرات جاری رہے جس میں مختلف امور پر بات چیت کی گئی، مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کرکے اپنی شرائط پیش کی۔ جیڈی وینس نے کہا اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری ایران کے ساتھ سنجیدہ گفتگو ہوئی، بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، میرا خیال ہے یہ خبر ایران کیلئے امریکاکے مقابلے میں کہیں زیادہ بری ہے۔نائب امریکی صدر نے کہا ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا، کسی ڈیل کے بغیر ہم واپس امریکا جا رہے ہیں، ہم یہاں ایک سادہ تجویز اور باہمی سمجھ بوجھ کے طریقہ کار کے ساتھ آئے تھے، ہم ایک حتمی اور بہترین آفر پیش کرنے کے بعد روانہ ہو رہے ہیں، یہی ہماری آخری اور بہترین پیشکش ہے، دیکھتے ہیں ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا ایرانی وفد سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح عزم نہیں سنا، ہمیں واضح یقین دہانی درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، امریکی صدرکا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔نائب صدر نے کہا ہم نے اپنی ریڈ لائنز اور جن چیزوں کو موزوں بنا سکتے ہیں وہ بتادی ہیں، ایرانیوں کو وہ چیزیں بھی بتائیں جو ہم ایڈجسٹ نہیں کرسکتے۔ دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات کے خاتمے کے بعد کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کا دار و مدار امریکا کی جانب سے سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے، ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی توقع نہیں کی جانی چاہئے۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر)پر جاری پیغام میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ کسی کو بھی اتنی جلدی معاہدے کی توقع نہیں تھی، ایک اور نکتہ مسائل اور حالات کی پیچیدگی تھی، کچھ نئے موضوعات بھی ان مذاکرات میں شامل کیے گئے، ہم سفارتی محاذ پر اپنے حقوق اور مفادات کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ دن اسلام آباد میں ایران کے وفد کیلئے مصروف اور طویل رہا، صبح سے پاکستان کی نیک نیتی پر مبنی کوششوں اور ثالثی کے تحت شروع ہونے والے سخت مذاکرات اب تک بغیر کسی تعطل کے جاری ہیں، اس دوران فریقین کے درمیان متعدد پیغامات اور تحریری مسودوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری معاملات، جنگی نقصانات کے ازالے، پابندیوں کا خاتمہ اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے پر بات چیت ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو، تین اہم معاملات پر اخلتاف رائے کے باعث جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا، ایران، پاکستان اور خطے کے دیگر دوستوں کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا، سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی نشست میں مذاکرات کی کامیابی کی توقع نہیں کی جانی چاہئے، اس سفارتی عمل کی کامیابی کا دار و مدار مخالف فریق کی سنجیدگی، نیک نیتی اور ایران کے جائز حقوق اور مفادات کو تسلیم کرنے پر ہے۔اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ہم مذاکرات کی میزبانی اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں نیک نیتی پر مبنی کوششوں پر پاکستان کی حکومت اور اس کے گرم جوش اور باوقار عوام کے شکر گزار ہیں۔
ایران امریکا مذاکرات بے نتیجہ، کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا
