گیس لوڈشیڈنگ اور بھاری بلوں کیخلاف احتجاج کی کال دی جائے گی، مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان

مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری

کوئٹہ (بلوچستان نیوز) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی گیس کمپنی کی ناقص پالیسیوں کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طرف گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، تو دوسری جانب گیس کی عدم دستیابی کے باوجود ہزاروں روپے کے بھاری بلز بھیجنا عوام کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ بلوچستان کے عوام ملک کے مہنگے ترین گیس بلز ادا کرنے پر مجبور ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں بنیادی سہولت میسر نہیں۔ گیس کمپنی اپنا قبلہ درست کرے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے، بصورت دیگر مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان جلد احتجاجی مظاہرے کی کال دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ کاشف حیدری نے کہا کہ ہر سال موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی گیس کمپنی کی جانب سے وہی پرانا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گیس کی طویل لوڈشیڈنگ، پریشر میں کمی اور بھاری بلز کے باعث شہری شدید پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ گھروں میں کھانا پکانے سے لے کر سردی سے بچاو¿ تک، معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ خواتین، بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کو بالخصوص مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ شہری متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہر سال یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے، لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے اس دیرینہ مسئلے کے مستقل حل کے لیے مو¿ثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما شروع ہوتے ہی عوام کو گیس کی قلت کا سامنا ہے، مگر اس کے باوجود صارفین کو بھاری بلز بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔ محض 18 سے 20 یونٹس گیس استعمال کرنے والے صارفین کو 20 ہزار روپے یا اس سے زائد کے بل موصول ہونا انتہائی تشویش ناک ہے۔ جب صارفین کو مطلوبہ مقدار میں گیس ہی فراہم نہیں کی جاتی تو اتنے بھاری بلز کا موصول ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ بلوں میں شامل چارجز، میٹر ریڈنگ اور گیس کے نرخوں کا شفاف طریقے سے جائزہ لیں اور غیر معمولی بلز سے متاثرہ صارفین کی شکایات کا فوری ازالہ کریں۔ ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں۔ ایسے حالات میں گیس کے بھاری بلز نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کو ایک طرف گیس کی عدم دستیابی کا سامنا ہے، تو دوسری جانب گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے بھاری بلز ادا کرنا پڑتے ہیں۔ گیس نہ ہونے کی صورت میں ایل پی جی خریدنا ان کی مجبوری بن جاتا ہے، لیکن کوئٹہ اور گردونواح میں ایل پی جی کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ یوں شہریوں کو ایک ہی ضرورت پوری کرنے کے لیے دوہرا مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ کاشف حیدری نے کہا کہ اگر عوام بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سولر سسٹم لگانے، گیس کی لوڈشیڈنگ کے دوران ایل پی جی خریدنے اور پینے کے پانی کے حصول کے لیے مہنگے داموں ٹینکرز منگوانے پر مجبور ہوں تو یہ صورتحال بنیادی سہولیات کی فراہمی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ عوام آخر کب تک اپنی محدود آمدن سے ہر بنیادی ضرورت کا متبادل خود خریدتے رہیں گے؟ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کریں، نہ کہ انہیں ہر مسئلے کے حل کے لیے اپنی جیب سے اضافی اخراجات برداشت کرنے پر مجبور کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ متعلقہ حکام عملی اقدامات کرنے کے بجائے محض اعلانات اور یقین دہانیوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ ہر سال موسم سرما میں گیس کمپنی کی کارکردگی اور عوام کو درپیش مسائل پر سوالات اٹھتے ہیں، لیکن آج تک ان مسائل کا مستقل حل سامنے نہیں آ سکا۔ عوامی شکایات پر اگر کوئی کارروائی ہوتی بھی ہے تو اس کے نتائج عام شہریوں کو ریلیف کی صورت میں نظر نہیں آتے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ گیس کمپنی کی کارکردگی کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے جواب دہی کا مو¿ثر نظام قائم کریں۔ ترجمان مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان نے کہا کہ موسم سرما میں محض چھ سے سات گھنٹے گیس کی فراہمی، وہ بھی انتہائی کم پریشر کے ساتھ، عوام کے ساتھ سنگین مذاق کے مترادف ہے۔ سرد موسم میں گیس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، لیکن اسی وقت شہریوں کو اس بنیادی سہولت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ گیس کمپنی کو چاہیے کہ وہ گھریلو صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے گیس کی فراہمی کا مو¿ثر شیڈول مرتب کرے، پریشر میں بہتری لائے اور ایسے اقدامات کرے جن سے عوام کو روزمرہ زندگی میں درپیش مشکلات کم ہو سکیں۔ کاشف حیدری نے واضح کیا کہ مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان عوامی مسائل پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔ اگر گیس کمپنی اور متعلقہ حکام نے فوری طور پر عوامی مشکلات کا ازالہ نہ کیا، گیس کی فراہمی بہتر نہ بنائی اور بھاری بلوں کے مسئلے پر سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے تو مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جلد احتجاجی مظاہرے کی کال دی جائے گی تاکہ عوام کی آواز متعلقہ حکام تک مو¿ثر انداز میں پہنچائی جا سکے اور انہیں مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا جا سکے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان، وفاقی حکام اور گیس کمپنی کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں گیس کی بلاتعطل فراہمی، پریشر میں بہتری اور بھاری بلز کے مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ غیر معمولی بلوں کی جانچ پڑتال کرکے متاثرہ صارفین کو ریلیف دیا جائے اور موسم سرما کی شدت میں اضافے سے قبل عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت غفلت نہیں برتی جانی چاہیے۔

محمد یوسف
رپورٹر
محمد یوسف

محمد یوسف روزنامہ بلوچستان نیوز کے رپورٹر ہیں اور کوئٹہ سے خبریں رپورٹ کرتے ہیں۔ انہیں صحافت کے شعبے میں 15 سال سے زائد کا تجربہ حاصل ہے، اور وہ کوئٹہ اور گرد و نواح کے واقعات، مقامی مسائل اور تازہ ترین خبروں کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔